Bharat Express DD Free Dish

Make in India

اڈانی گروپ اور امریکی کمپنی Jabil بھارت میں اے آئی اور ڈیٹا سینٹر سے متعلق آلات تیار کرنے کے لیے 50:50 کی شراکت داری پر مشترکہ کمپنی قائم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

اڈانی ڈیفنس اینڈ ایرو اسپیس کو دفاعی اور ایرو اسپیس مصنوعات کی برآمدات میں بہترین کارکردگی پر SIDM چیمپئن ایوارڈ 2026 سے سرفراز کیا گیا۔

جیوتی رادتیہ سندھیا کی پہل سے تقریباً 170 ایکڑ میں تیار ہوگا ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون، 5,500 کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری اور 18 ہزار سے زیادہ روزگار کے مواقع کی توقع۔

انڈیجینس شپ لانچ: ہندوستان کا پہلا دیسی اوشین ریسرچ ویسل 9 ستمبر 2026 کو کولکاتا کے رشی بنکم شپ یارڈ میں لانچ کیا جائے گا۔

اڈانی ڈیفنس اینڈ ایرو اسپیس اور انڈو-رشین رائفلز پرائیویٹ لمیٹڈ (IRRPL) کے درمیان ہونے والے نئے معاہدے کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کے تحت اڈانی ڈیفنس آئندہ پانچ برس تک AK-203 اسالٹ رائفل کے لیے 7.62×39 ملی میٹر گولہ بارود فراہم کرے گی۔ یہ معاہدہ بظاہر معمول کا دفاعی معاہدہ لگ سکتا ہے، لیکن اس کی اہمیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔

پی ایم مودی کی 7 اپیلوں اور اقتصادی خود کفالت کے لیے شہریوں کی عادات میں تبدیلی سے متعلق 7 اقدامات کا تجزیہ۔ جانئے ایندھن، سونا، بیرونِ ملک سفر اور خوردنی تیل کی کھپت کم کرکے غیر ملکی زرمبادلہ کیسے بچایا جا سکتا ہے؟

وزیراعظم مودی نے SIAM سے اپیل کی کہ وہ بھارت کی موبیلٹی صنعت کو اگلی نسل کی ٹیکنالوجی کے لیے تیار کرنے میں فعال کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ جدت، باہمی تعاون اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے آٹو سیکٹر ’وکست بھارت‘ کے ہدف کو حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

گلوبل لیڈرز فورم میں وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارت کی ترقی، معیشت اور مینوفیکچرنگ کے مستقبل پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں اصلاحات کسی مجبوری کے تحت نہیں کی جا رہیں بلکہ یہ حکومت کا عزم اور پختہ ارادہ ہے۔

برطانیہ، نیوزی لینڈ، ای ایف ٹی اے، متحدہ عرب امارات، آسٹریلیا، ماریشس اور عمان سمیت کئی ممالک کے ساتھ معاہدے۔ زرعی، مینوفیکچرنگ اور سیاحت کے شعبوں کو فائدہ پہنچنے کی امید۔ کسانوں، دھات تیار کرنے والوں اور صنعتوں کو عالمی منڈیوں تک براہِ راست رسائی۔

پیوش گوئل نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے وژن کے مطابق بھارت برکس خاندان کے تمام رکن ممالک کے ساتھ اپنی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت صرف مذاکرات تک محدود نہیں رہنا چاہتا بلکہ ان مباحث کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے سرگرم ہے، تاکہ تمام رکن ممالک کی مشترکہ ترقی، خوشحالی اور صنعتی پیش رفت کو نئی رفتار مل سکے۔