Bharat Express DD Free Dish

Renewable energy

اس اسکیم کو مالی سال 2032-33 تک قائم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس کے لیے مجموعی طور پر 1,86,405 کروڑ روپے کی لاگت مقرر کی گئی ہے۔ اس میں 1,36,378 کروڑ روپے گرین انرجی کوریڈور فیز-III کے تحت ریاستی سطح کے اندر بجلی کی ترسیل کے نظام کی ترقی کے لیے اور 50,000 کروڑ روپے 50 گیگاواٹ آور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

دو برس میں دنیا کے سب سے بڑے گھریلو روف ٹاپ سولر پروگرام کی بڑی کامیابی، 28 ہزار کروڑ روپے سے زائد سبسڈی جاری، 12 لاکھ خاندانوں نے اضافی بجلی فروخت کر کے آمدنی بھی حاصل کی۔

گلوبل ونڈ انرجی کونسل (GWEC) کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق 31 دسمبر 2025 تک ونڈ انرجی کی تنصیب کے معاملے میں بھارت دنیا بھر میں چوتھے مقام پر تھا۔ حکومت کے مطابق ملک میں قابلِ تجدید توانائی، خاص طور پر ونڈ انرجی کو فروغ دینے کے لیے متعدد اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ حکومت گرین انرجی کوریڈور اسکیم کے تحت نئی ٹرانسمیشن لائنیں اور سب اسٹیشن تیار کر رہی ہے۔

گجرات کی یہ کامیابی صرف ریاست تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ بھارت کے عالمی موسمیاتی اہداف اور پیرس معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کو بھی مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ گرین انرجی اور پائیدار ترقی کی سمت گجرات آج ملک کے لیے ایک مؤثر ماڈل کے طور پر ابھر رہا ہے۔

اڈانی سولر نے ووڈ میکنزی کی ’’گلوبل سولر فوٹو وولٹائک ماڈیول مینوفیکچرر رینکنگ 2026‘‘ میں دنیا بھر میں چھٹا مقام حاصل کر لیا ہے۔ اس کامیابی کے ساتھ اڈانی سولر عالمی ٹاپ 10 فہرست میں شامل ہونے والی واحد ہندوستانی کمپنی بن گئی ہے۔

سمٹ میں ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بھارت کلین انرجی، معیشت اور ماحولیات کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ بڑے پیمانے پر رینیوایبل انرجی منصوبے نہ صرف معیشت کو مضبوط کریں گے بلکہ ماحول کے تحفظ میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔ جیفری سیکس نے کہا کہ اگر بھارت نے بڑے خوابوں کے ساتھ اسی رفتار سے کام جاری رکھا تو 2047 کا ہدف حاصل کرنا ممکن ہے، اور ملک عالمی معیشت میں ایک مضبوط مقام حاصل کر لے گا۔

وزیراعظم نے گجرات، تمل ناڈو، مہاراشٹر اور راجستھان جیسی ریاستوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ علاقے قابلِ تجدید توانائی کے میدان میں نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر گجرات کے علاقوں کَچھ، پٹن اور بناس کانٹھا کا ذکر کیا، جہاں کبھی بنجر زمینیں تھیں، مگر آج وہاں بڑے بڑے قابلِ تجدید توانائی پارکس قائم ہو چکے ہیں۔ ان منصوبوں سے مقامی نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع مل رہے ہیں اور نئی مہارتیں بھی فروغ پا رہی ہیں۔

سرکاری بیان کے مطابق ’’اسمال ہائیڈرو پاور ڈیولپمنٹ اسکیم‘‘ کو مالی سال 2026-27 سے 2030-31 تک نافذ کیا جائے گا۔ اس کے تحت 1 سے 25 میگاواٹ صلاحیت کے منصوبے مختلف ریاستوں میں قائم کیے جائیں گے، خاص طور پر پہاڑی اور شمال مشرقی علاقوں میں جہاں اس طرح کے منصوبوں کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ حکومت کا ماننا ہے کہ ان علاقوں میں اس اسکیم کے ذریعے توانائی کی دستیابی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

راجیو جونیجا نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں، مقامی کرنسی میں لین دین، ہنرمندی کی ترقی اور اختراع پر مبنی ترقی پر زور اس بات کی علامت ہے کہ دونوں ممالک دوطرفہ اقتصادی تعاون کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا چاہتے ہیں

ہندوستان کی صاف ستھری توانائی کی تاریخی توسیع کو اجاگر کرتے ہوئے نئی اور قابل تجدید توانائی کے مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے کہا کہ ہندوستان نے رواں مالی سال میں 31.25 گیگاواٹ غیرروایتی ایندھن کی صلاحیت کا اب تک کا سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا ہے، جس میں 24.28 گیگاواٹ شمسی توانائی شامل ہے ۔