Bharat Express DD Free Dish

Renewable energy

وزیر اعظم نے ڈیجیٹل سسٹم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے ٹیکنالوجی کی مدد سے سرکاری اسکیموں کی رقم براہ راست مستحقین کے بینک کھاتوں تک پہنچانے کا انتظام کیا ہے۔ اس سے بدعنوانی کم کرنے، عوام کی سہولت بڑھانے اور حکومت و شہریوں کے درمیان براہ راست رابطہ قائم کرنے میں مدد ملی ہے۔

اتر پردیش میں پی ایم سوریہ گھر یوجنا کے تحت 8.76 لاکھ سے زائد روف ٹاپ سولر پلانٹس نصب، روزانہ 1.32 کروڑ یونٹ سے زیادہ صاف بجلی پیدا، ایک لاکھ سے زائد افراد کو روزگار ملا۔

اڈانی گروپ کی اسکل ڈیولپمنٹ اور صلاحیت سازی کی اکائی اڈانی اسکلز اینڈ ایجوکیشن (ASE) نے اتوار کو کَچھ یونیورسٹی کے ساتھ مل کر بھج میں گرین انرجی سینٹر آف ایکسیلنس (CoE) کا افتتاح کیا۔ اس پہل کا مقصد بھارت کے تیزی سے ترقی کرتے قابل تجدید توانائی شعبے کے لیے ہنرمند افرادی قوت تیار کرنا ہے۔ اس مرکز کا افتتاح گجرات کے گورنر آچاریہ دیوورت نے کیا۔

گرین انرجی کوریڈور فیز-III کو کابینہ کی منظوری، 135 گیگاواٹ قابلِ تجدید توانائی کی ترسیل یقینی بنانے کا منصوبہ، 50 GWh بیٹری اسٹوریج اور مضبوط بجلی گرڈ کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی امید۔

اس اسکیم کو مالی سال 2032-33 تک قائم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس کے لیے مجموعی طور پر 1,86,405 کروڑ روپے کی لاگت مقرر کی گئی ہے۔ اس میں 1,36,378 کروڑ روپے گرین انرجی کوریڈور فیز-III کے تحت ریاستی سطح کے اندر بجلی کی ترسیل کے نظام کی ترقی کے لیے اور 50,000 کروڑ روپے 50 گیگاواٹ آور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

دو برس میں دنیا کے سب سے بڑے گھریلو روف ٹاپ سولر پروگرام کی بڑی کامیابی، 28 ہزار کروڑ روپے سے زائد سبسڈی جاری، 12 لاکھ خاندانوں نے اضافی بجلی فروخت کر کے آمدنی بھی حاصل کی۔

گلوبل ونڈ انرجی کونسل (GWEC) کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق 31 دسمبر 2025 تک ونڈ انرجی کی تنصیب کے معاملے میں بھارت دنیا بھر میں چوتھے مقام پر تھا۔ حکومت کے مطابق ملک میں قابلِ تجدید توانائی، خاص طور پر ونڈ انرجی کو فروغ دینے کے لیے متعدد اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ حکومت گرین انرجی کوریڈور اسکیم کے تحت نئی ٹرانسمیشن لائنیں اور سب اسٹیشن تیار کر رہی ہے۔

گجرات کی یہ کامیابی صرف ریاست تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ بھارت کے عالمی موسمیاتی اہداف اور پیرس معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کو بھی مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ گرین انرجی اور پائیدار ترقی کی سمت گجرات آج ملک کے لیے ایک مؤثر ماڈل کے طور پر ابھر رہا ہے۔

اڈانی سولر نے ووڈ میکنزی کی ’’گلوبل سولر فوٹو وولٹائک ماڈیول مینوفیکچرر رینکنگ 2026‘‘ میں دنیا بھر میں چھٹا مقام حاصل کر لیا ہے۔ اس کامیابی کے ساتھ اڈانی سولر عالمی ٹاپ 10 فہرست میں شامل ہونے والی واحد ہندوستانی کمپنی بن گئی ہے۔

سمٹ میں ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بھارت کلین انرجی، معیشت اور ماحولیات کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ بڑے پیمانے پر رینیوایبل انرجی منصوبے نہ صرف معیشت کو مضبوط کریں گے بلکہ ماحول کے تحفظ میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔ جیفری سیکس نے کہا کہ اگر بھارت نے بڑے خوابوں کے ساتھ اسی رفتار سے کام جاری رکھا تو 2047 کا ہدف حاصل کرنا ممکن ہے، اور ملک عالمی معیشت میں ایک مضبوط مقام حاصل کر لے گا۔