اڈانی گروپ کی اسکل ڈیولپمنٹ اور صلاحیت سازی کی اکائی اڈانی اسکلز اینڈ ایجوکیشن (ASE) نے اتوار کو کَچھ یونیورسٹی کے ساتھ مل کر بھج میں گرین انرجی سینٹر آف ایکسیلنس (CoE) کا افتتاح کیا۔ اس پہل کا مقصد بھارت کے تیزی سے ترقی کرتے قابل تجدید توانائی شعبے کے لیے ہنرمند افرادی قوت تیار کرنا ہے۔ اس مرکز کا افتتاح گجرات کے گورنر آچاریہ دیوورت نے کیا۔ ادارے کے ذریعے ہر سال 10 ہزار سے زائد طلبہ کو قابل تجدید توانائی اور صنعتی آٹومیشن سے متعلق خصوصی تربیتی پروگراموں سے فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔
بڑھتی ہوئی مانگ کے درمیان ہنرمند افرادی قوت تیار کرنے پر زور
یہ پہل ایسے وقت میں شروع کی گئی ہے جب ملک میں صاف توانائی کے شعبے کی توسیع کے ساتھ تربیت یافتہ ماہرین کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اڈانی گروپ کے مطابق، گزشتہ دو برسوں میں گجرات کے کچھ ضلع میں کمپنی کے گرین انرجی منصوبوں کی وجہ سے 21 ہزار سے زیادہ براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں گرین انرجی انفراسٹرکچر کی تعمیر، آپریشن اور دیکھ بھال کے لیے تربیت یافتہ افرادی قوت کی ضرورت بھی بڑھی ہے۔ گرین انرجی سینٹر آف ایکسیلنس میں سولر پی وی ٹیکنالوجی، ونڈ انرجی سسٹمز، ہائبرڈ انرجی سسٹمز، بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (BESS) اور ڈیجیٹل و صنعتی آٹومیشن جیسے شعبوں میں تربیت دی جائے گی۔ اس کے علاوہ یہ مرکز گرین انرجی کے شعبے میں عملی تحقیق اور انٹرپرینیورشپ کو بھی فروغ دے گا۔
’قابل تجدید توانائی بھارت کے مستقبل کو شکل دے گی‘
اڈانی گروپ کے ڈائریکٹر کرن اڈانی نے کہا کہ قابل تجدید توانائی کا شعبہ بھارت کے مستقبل کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مرکز طلبہ کو نہ صرف موجودہ روزگار کے مواقع کے لیے تیار کرے گا بلکہ بھارت اور عالمی سطح پر ابھرنے والے نئے امکانات سے فائدہ اٹھانے کے قابل بھی بنائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی معیار کا یہ سینٹر آف ایکسیلنس نوجوانوں کو مستقبل کی مہارتوں اور صنعت کی ضروریات کے مطابق تربیت فراہم کرے گا۔ اڈانی اسکلز اینڈ ایجوکیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) رابن بھومک نے کہا کہ قابلِ تجدید توانائی کی صنعت تیزی سے پھیل رہی ہے، لیکن ضروری ماہر افرادی قوت کی دستیابی اسی رفتار سے نہیں بڑھ سکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کَچھ یونیورسٹی کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے صنعت کی ضروریات کو براہِ راست کلاس روم تک پہنچایا جا سکے گا اور طلبہ کو حقیقی ٹیکنالوجیز سے متعلق عملی تجربہ حاصل ہوگا۔
2030 تک 500 گیگاواٹ غیر فوسل توانائی کا ہدف
بھارت نے 2030 تک 500 گیگاواٹ غیر فوسل ایندھن پر مبنی توانائی کی صلاحیت حاصل کرنے کا پُرعزم ہدف مقرر کیا ہے، جس کے باعث شمسی، ہوا سے توانائی، توانائی ذخیرہ کرنے اور دیگر صاف توانائی کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔ اس تبدیلی میں کَچھ ایک اہم مرکز کے طور پر ابھرا ہے۔ اڈانی گروپ یہاں کھاوڑا میں 30 گیگاواٹ صلاحیت والے قابلِ تجدید توانائی پارک کو ترقی دے رہا ہے، جو تقریباً 538 مربع کلومیٹر کے رقبے میں پھیلا ہوا ہے۔ اسے دنیا کے سب سے بڑے گرین انرجی منصوبوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
کلاس روم سے عملی تربیت تک ہوگا سیکھنے کا ماڈل
یونیورسٹی میں قائم یہ مرکز ایک منظم تعلیمی ماڈل کے تحت کام کرے گا، جس میں کلاس روم پر مبنی تعلیم، سیمولیشن پر مبنی تربیت اور عملی تجربے کو یکجا کیا جائے گا۔ نصاب میں شمسی اور ہوا سے توانائی کی ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی کا انضمام، بیٹری اسٹوریج سسٹم، مائیکرو گرڈ، SCADA سسٹم، انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) پر مبنی توانائی کے استعمال اور اسمارٹ گرڈ ٹیکنالوجیز شامل ہوں گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


