Bharat Express DD Free Dish

Adani Group

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے لیے پروازیں نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ منتقل کی جائیں گی۔ غیر ملکی ایئرلائنز نے اڈانی ایئرپورٹس کی تجویز کی حمایت کردی ہے، جبکہ اڈانی ایئرپورٹ ہولڈنگز نے اس سلسلے میں حکومت کو رپورٹ بھیج دی ہے۔

پروفیسر جیفری سیکس نے اڈانی گروپ کو ہندوستان میں تبدیلی اور ترقی کا ایک اہم محرک قرار دیا۔ انہوں نے ملک میں بنیادی ڈھانچے کی توسیع میں گروپ کی نمایاں شراکت کا ذکر کیا۔ انہوں نے کاروبار میں خاندانی نام کے ساتھ وابستہ ذمہ داریوں پر بھی اظہار خیال کیا۔

ڈاکٹر پریتی اڈانی نے کہا کہ اڈانی گروپ ہندوستان کے 2047 تک ترقی یافتہ ملک بننے کے ہدف کی حمایت کے لیے بنیادی ڈھانچے اور توانائی کی منتقلی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

کمپنی کے منصوبے کے مطابق نئے گرائنڈنگ پلانٹس کے ذریعے مغربی خطے میں 15.5 ایم ٹی پی اے، مشرقی خطے میں 11.6 ایم ٹی پی اے اور شمالی خطے میں 2.9 ایم ٹی پی اے پیداواری صلاحیت کا اضافہ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ کلنکر کی پیداوار بھی بڑھائی جائے گی۔مشرقی خطے میں آسام کے عمرنگسو میں 4 ایم ٹی پی اے، مغربی خطے میں مہاراشٹر کے مراٹھا میں 4 ایم ٹی پی اے اور گجرات کے مندرا میں 2.3 ایم ٹی پی اے کلنکر پیداواری صلاحیت تیار کی جائے گی۔

اڈانی یونیورسٹی نے 2026 کے بیچ کی تیسری تقریبِ تقسیمِ اسناد میں 374 طلبہ کو ڈگریاں عطا کیں۔ تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی کے لیے 10 طلبہ کو تمغوں سے نوازا گیا، جن میں 5 طلائی، 3 نقرئی اور 2 کانسی کے تمغے شامل ہیں۔

 ریلائنس گروپ کی مشترکہ مارکیٹ کیپ 28.9 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی، ٹاٹا گروپ سے 3.23 لاکھ کروڑ روپے آگے، ریلائنس انڈسٹریز اور جیو پلیٹ فارمز کی مشترکہ مارکیٹ ویلیو28.7 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی

اڈانی یونیورسٹی کی صدر نے صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان اشتراک بڑھانے پر زور دیا، کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ انسانی صلاحیتوں کو فروغ دینا بھی ضروری ہے

بجلی کی فروخت میں 32 فیصد اضافہ، آپریشنل صلاحیت 20.8 گیگاواٹ تک پہنچی، بیٹری اسٹوریج میں بھی نمایاں پیش رفت، تاہم بڑھتے سرمایہ جاتی اخراجات، قرض کی ادائیگی اور ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر کی دستیابی کمپنی کے لیے اصل امتحان۔

اڈانی انرجی سولیوشنز لمیٹڈ (AESL) نے مالی سال 2027 کی دوسری سہ ماہی کے نتائج جاری کر دیے ہیں۔ کمپنی کا خالص منافع دوگنا سے زیادہ ہو کر 1,364 کروڑ روپے تک پہنچ گیا، جبکہ EBITDA میں 67 فیصد کا زبردست اضافہ درج کیا گیا۔

توانائی کی فروخت میں 32 فیصد اضافہ، بجلی کی فراہمی سے آمدنی 8,299 کروڑ روپے رہی؛ بیٹری توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 6.63 گیگاواٹ آور ہوگئی