Bharat Express DD Free Dish

Green Energy

سمٹ کے بعد نارڈک ممالک کے لیڈروں کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ آٹھ برس قبل بھارت اور نارڈک ممالک کے درمیان تعلقات کو نئی رفتار دینے کے لیے اس پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی گئی تھی اور آج اس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

سب سے اہم پیش رفت بھارت اور ناروے کے تعلقات کو ”گرین اسٹریٹجک پارٹنرشپ“ تک وسعت دینے کا فیصلہ ہے۔ اس شراکت داری کے تحت ماحولیاتی تحفظ، گرین انڈسٹری، سرکلر اکانومی، کلائمیٹ فنانسنگ اور صاف توانائی کے منصوبوں پر مشترکہ طور پر کام کیا جائے گا۔ اس تعاون سے ناروے کی جدید ٹیکنالوجی اور بھارت کی مینوفیکچرنگ صلاحیت کو یکجا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

بھارت اور ناروے کے درمیان گرین ٹیکنالوجی، آف شور ونڈ انرجی، میرین ٹیکنالوجی اور سائنسی اشتراک کو فروغ دینے کے لیے پانچ اسٹریٹجک معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔ یہ معاہدے وزیر اعظم نریندر مودی کے ناروے دورے کے دوران طے پائے، جنہیں دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے باب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق ’’اسمال ہائیڈرو پاور ڈیولپمنٹ اسکیم‘‘ کو مالی سال 2026-27 سے 2030-31 تک نافذ کیا جائے گا۔ اس کے تحت 1 سے 25 میگاواٹ صلاحیت کے منصوبے مختلف ریاستوں میں قائم کیے جائیں گے، خاص طور پر پہاڑی اور شمال مشرقی علاقوں میں جہاں اس طرح کے منصوبوں کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ حکومت کا ماننا ہے کہ ان علاقوں میں اس اسکیم کے ذریعے توانائی کی دستیابی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

چیئرمین گوتم اڈانی نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ آج کی جدوجہد غیر ملکی اقتدار سے آزادی کے لیے نہیں بلکہ ٹیکنالوجی اور سماجی اختراع میں خودکفالت کے لیے ہے۔ انہوں نے اسے بھارت کی ’’دوسری جنگِ آزادی‘‘ قرار دیا جس کا مقصد ہر طبقے کو بااختیار بنانا اور جمہوریت کو مضبوط کرنا ہے۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ سولر پمپ کے ذریعے کسان باقاعدگی سے کھیتوں کی سیرابی کر سکتے ہیں، جس سے فصل کی پیداوار اور معیار دونوں بہتر ہوتے ہیں۔ یہ پمپ ڈیزل اور بجلی پر انحصار کم کر کے لاگت گھٹاتے ہیں اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

ہندوستان کی یہ پیش رفت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ترقی اور ماحولیاتی ذمہ داری ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔ جیسے جیسے دنیا ماحولیاتی بحران کے حل کی تلاش میں ہے، ہندوستان نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ دنیا کے لیے بھی راہ دکھانے والا ملک بن چکا ہے۔

ہردیپ سنگھ پوری نے لکھا کہ ’’یہ نہ صرف کسانوں کی آمدنی بڑھا رہا ہے بلکہ دیہی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کر رہا ہے۔‘‘

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت کسانوں کی فلاح و بہبود اور صارفین کے ساتھ ساتھ صنعت کے مفادات کے تحفظ کو سب سے زیادہ ترجیح دیتی ہے۔

نئی اور قابل تجدید توانائی کے مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے سبز توانائی میں ہندوستان کی قیادت کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ملک اب شمسی توانائی میں تیسرے نمبر پر، ہوا کی توانائی میں چوتھے اور مجموعی طور پر قابل تجدید صلاحیت میں چوتھے نمبر پر ہے۔