مرکزی وزیر برائے پٹرولیم و قدرتی گیس ہردیپ سنگھ پوری نے پیر کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ بھارت میں بایو فیولز کے ذریعے توانائی کے شعبے میں ایک نیا انقلاب برپا ہو رہا ہے۔ ہردیپ سنگھ پوری کا یہ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب نمیبیا نے بھارت کی قیادت میں قائم کیے گئے گلوبل بایو فیول الائنس (GBA) میں باضابطہ طور پر شمولیت اختیار کی۔ اس اتحاد کا مقصد دنیا بھر میں صاف اور پائیدار توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں ہردیپ پوری نے ایک بیان میں کہا کہ ’’بھارت کی صاف توانائی کے لیے دور اندیش سوچ اور گلوبل بایو فیول الائنس کی مسلسل توسیع وزیر اعظم مودی کی وژنری قیادت کا مظہر ہے، جو ’وسودھیو کٹمبکم‘ (یعنی پوری دنیا ایک خاندان ہے) کے اصول پر مبنی ہے۔‘‘
GBA से जुड़ा Namibia !
स्वच्छ ऊर्जा की दिशा में भारत की पहल #GlobalBiofuelAlliance परिवार का विस्तार वसुधैव कुटुंबकम के मंत्र पर PM @narendramodi जी की दूरदर्शिता का एक और प्रमाण है।
बायोफ्यूल एक ऐसी ऊर्जा है जो घर और खेत के कचरे, अनाज/खराब अनाज से प्राप्त होता है। पर्यावरण… pic.twitter.com/7W7KXcYfnu
— Hardeep Singh Puri (@HardeepSPuri) July 14, 2025
انھوں نے وضاحت کی کہ بایو فیولز زرعی فضلہ، خراب اناج اور گھریلو نامیاتی مواد سے تیار کیے جاتے ہیں اور یہ ماحول دوست توانائی کا ذریعہ ہیں۔ ان کے مطابق یہ صرف ایک متبادل ایندھن نہیں بلکہ جامع ترقی کا ذریعہ بھی ہے۔ ہردیپ پوری نے مزید کہا کہ ’’وزیر اعظم مودی کے بایو فیولز پر زور نے دیہی سے شہری علاقوں تک ترقی کی نئی راہیں کھولی ہیں، روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں اور توانائی کے شعبے کا منظرنامہ بدل دیا ہے۔‘‘
دیہی آمدنی اور روزگار میں اضافہ
انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدام دیہی معیشت کو نئی زندگی دے رہا ہے۔ ہردیپ سنگھ پوری نے لکھا کہ ’’یہ نہ صرف کسانوں کی آمدنی بڑھا رہا ہے بلکہ دیہی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کر رہا ہے۔‘‘ واضح رہے کہ بھارت کے ایتھنول ملاوٹ پروگرام میں قابلِ ذکر پیش رفت ہوئی ہے۔ 2014 میں ملاوٹ کی شرح صرف 1.4 فیصد تھی، جو 2025 تک بڑھ کر 20 فیصد ہو چکی ہے۔ بھارت اب بایو فیولز کا تیسرا سب سے بڑا عالمی پیدا کنندہ بن چکا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس پروگرام سے کسانوں، خاص طور پر گنا کاشت کرنے والوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے، دیہی روزگار پیدا ہوا ہے اور کاربن اخراج میں نمایاں کمی ہوئی ہے — جو 17.5 کروڑ درخت لگانے کے برابر ہے۔ وہیں فوسل فیول کی درآمدات میں کمی کے باعث ملک نے اب تک تقریباً 85,000 کروڑ روپے کا زرمبادلہ بھی بچایا ہے۔
انڈین آئل، بھارت پٹرولیم اور ہندوستان پٹرولیم جیسے عوامی شعبے کے ادارے اس مہم میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہردیپ پوری کے مطابق بھارت کی یہ سبز توانائی کی مہم دنیا بھر کے لیے ایک مثالی ماڈل پیش کر رہی ہے، جو جدت، شمولیت اور پائیدار ترقی پر مبنی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




