وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ بھارت کی پہلی ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرین دنیا کی سب سے طاقتور ہائیڈروجن ٹرین ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی طور پر تیار کی گئی اس جدید ریلوے ٹیکنالوجی نے بھارت کو ان چند ممالک کی صف میں لا کھڑا کیا ہے جہاں ہائیڈروجن ٹرینیں چلائی جا رہی ہیں۔ وزیراعظم نے جمعہ کو جند اور سونی پت کے درمیان بھارت کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین کو ہری جھنڈی دکھائی۔ اس موقع پر ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی اور مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنو بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ تقریباً 14,700 کروڑ روپے مالیت کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد بھی رکھا گیا۔
ہائیڈروجن ٹیکنالوجی پر بھارت کا بڑا قدم
عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہائیڈروجن ٹرین کی ٹیکنالوجی عالمی سطح پر صرف گزشتہ سات سے آٹھ برسوں میں سامنے آئی ہے اور اس وقت دنیا کے صرف تین یا چار ممالک ہی ایسی ٹرینیں چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ہائیڈروجن ٹرینیں ابھی حال ہی میں دنیا میں متعارف ہوئی ہیں۔ صرف تین یا چار ممالک کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے اور وہاں بھی یہ ٹیکنالوجی ابتدائی مرحلے میں ہے، لیکن بھارت کی ہائیڈروجن ٹرین کی صلاحیتوں کے بارے میں جان کر ہر ہندوستانی کو فخر محسوس ہوگا۔‘‘
دنیا کی سب سے طاقتور ہائیڈروجن ٹرین
وزیراعظم کے مطابق جند سے چلنے والی ہائیڈروجن ٹرین 3,200 ہارس پاور کے پروپلشن سسٹم سے لیس ہے، جس کی وجہ سے یہ دنیا کی سب سے طاقتور ہائیڈروجن ٹرین بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا ’’یہ نہ صرف دنیا کی سب سے طاقتور ہائیڈروجن ٹرین ہے بلکہ بھارت کی سب سے طویل ہائیڈروجن ٹرین بھی ہے۔‘‘ مودی نے ریلوے ٹیکنالوجی کے ارتقا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انیسویں صدی بھاپ کے انجنوں، بیسویں صدی ڈیزل اور برقی ٹرینوں کی تھی، جبکہ اکیسویں صدی ہائیڈروجن سے چلنے والی ریل گاڑیوں کی ہوگی۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت میں ریلوے کی برق کاری کا آغاز 1925 میں ہوا تھا، لیکن 2014 تک تقریباً 90 برسوں میں صرف 30 فیصد ریلوے نیٹ ورک ہی برقی بنایا جا سکا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 12 برسوں میں ملک کے تقریباً 99 فیصد ریلوے نیٹ ورک کی برق کاری مکمل ہو چکی ہے، جبکہ ہریانہ میں ریلوے نیٹ ورک سو فیصد برقی ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق اسی وجہ سے عالمی تنازعات اور تیل کے بحران کے باوجود بھارت کی ریلوے خدمات متاثر نہیں ہوئیں اور ترقی کا سفر مسلسل جاری رہا۔
کھیلوں کے شعبے میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے تعاون
وزیراعظم نے اس موقع پر دہلی-امرتسر-کٹرا ایکسپریس وے کے ہریانہ حصے، جند-گوہانہ قومی شاہراہ اور امبالہ-کالا امب فور لین سڑک سمیت کئی اہم منصوبوں کا افتتاح کیا۔ انہوں نے کہا کہ بہتر سڑک اور ریل رابطے نہ صرف عوام کو سہولت فراہم کرتے ہیں بلکہ ترقی کی رفتار میں کئی گنا اضافہ کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے اپنے حالیہ انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے دوروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے ساتھ کھیلوں کی صنعت اور کھلاڑیوں کی تربیت کے شعبے میں مل کر کام کرے گا، جس سے ملک خصوصاً ہریانہ کے کھلاڑیوں کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ کھیلو انڈیا مہم، نئی قومی کھیل پالیسی، ’’کھیلو بھارت‘‘ پالیسی اور ٹارگٹ اولمپک پوڈیم اسکیم (TOPS) کے ذریعے کھلاڑیوں کو پہلے سے کہیں زیادہ سہولیات اور مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



