Bharat Express DD Free Dish

Rural Development

یہ اسکیم مالی سال 2027 سے 2036 تک نافذ رہے گی۔ اس کے تحت کمپریسڈ بائیو گیس کی پیداوار کو تقریباً دس گنا بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق اس سے دیہی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور کسانوں کو زرعی باقیات، گوبر اور نامیاتی فضلے سے اضافی آمدنی حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔

دیہی جائیدادوں کے مالکان کو حقوق ملکیت کا ریکارڈ فراہم کرنے کی مہم تیز۔ مرکزی حکومت نے بتایا کہ سوامتو اسکیم کے تحت منظور شدہ تمام اہل دیہی آبادی والے علاقوں میں سروے کا کام جاری ہے اور اب تک 3.30 لاکھ دیہات میں ڈرون سروے اور نقشہ سازی مکمل کی جا چکی ہے۔

’وکست وائبرنٹ ولیج پروگرام 2026‘ کے شرکا سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ سرحدی برادریاں بنیادی سہولیات سے پہلے قومی سلامتی اور اتحاد کو ترجیح دیتی ہیں۔

وزیراعظم کے دفتر کے مطابق ’وکست وائبرنٹ ولیج پروگرام‘ کو ’مائی بھارت‘ کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کا تصور وزیراعظم کے اس وژن کو عملی شکل دینے کے لیے پیش کیا گیا ہے جس کے تحت ہندوستان کے سرحدی گاؤں کو ملک کے ’پہلے گاؤں‘ کے طور پر دیکھا جائے اور انہیں ’وکست بھارت‘ کے سفر میں فعال شراکت دار بنایا جائے۔ 

23ویں قسط جاری ہونے کے بعد مستفید کسان اپنی ادائیگی کی صورتِ حال پی ایم-کسان پورٹل پر موجود ’’Know Your Status‘‘ سہولت کے ذریعے معلوم کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کسان اپنے بینک کھاتے یا پاس بک میں اندراج دیکھ کر بھی تصدیق کر سکتے ہیں کہ ان کے کھاتے میں 2,000 روپے کی رقم جمع ہوئی ہے یا نہیں۔

جی ایس ٹی کونسل کے حالیہ فیصلے نے عام شہریوں سے لے کر کسانوں تک سبھی کے لیے راحت کی نئی امیدیں پیدا کی ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے یوم آزادی پر لال قلعے سے اگلی جنریشن کی جی ایس ٹی اصلاحات کا جو عزم ظاہر کیا تھا، وہ اب حقیقت بنتا دکھائی دے رہا ہے۔

اگرچہ کچھ اشاریے جمود یا معمولی کمی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، مجموعی طور پر دیہی معیشت میں امید کی کرن موجود ہے، خاص طور پر انفراسٹرکچر کی بہتری اور حکومتی معاونت کی بدولت۔ تاہم، بیرونی تجارتی خطرات اور برآمدی چیلنجز دیہی آمدنی پر اثر ڈال سکتے ہیں۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ سولر پمپ کے ذریعے کسان باقاعدگی سے کھیتوں کی سیرابی کر سکتے ہیں، جس سے فصل کی پیداوار اور معیار دونوں بہتر ہوتے ہیں۔ یہ پمپ ڈیزل اور بجلی پر انحصار کم کر کے لاگت گھٹاتے ہیں اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

سال 2024-25 میں منریگا کے تحت 290.60 کروڑ یومیہ روزگار پیدا ہوا، جس سے تقریباً 16 کروڑ گھرانے مستفید ہوئے۔ اس دوران 99.79 فیصد گھرانوں کو ان کی درخواست کے مطابق کام فراہم کیا گیا، جس نے بے روزگاری، مہنگائی اور موسمی مشکلات کے دوران ایک مضبوط حفاظتی فریم ورک مہیا کرایا۔

حکومت کا یہ فیصلہ کسانوں اور ماحولیاتی تحفظ دونوں کے لیے مفید ہے۔ جہاں پی ایم دھن-دانیا یوجنا دیہی معیشت کو مستحکم کرے گی، وہیں گرین انرجی میں سرمایہ کاری سے بھارت کو توانائی کے شعبے میں خودکفالت حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔