Bharat Express DD Free Dish

GST Rate Cut: وزیراعظم مودی کی جی ایس ٹی اصلاحات کا وعدہ ہوا پورا، ’سودیشی‘ دیوالی سے کسانوں اور کاریگروں کے چہروں پر خوشی کی لہر

جی ایس ٹی کونسل کے حالیہ فیصلے نے عام شہریوں سے لے کر کسانوں تک سبھی کے لیے راحت کی نئی امیدیں پیدا کی ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے یوم آزادی پر لال قلعے سے اگلی جنریشن کی جی ایس ٹی اصلاحات کا جو عزم ظاہر کیا تھا، وہ اب حقیقت بنتا دکھائی دے رہا ہے۔

نئی دہلی: ملک میں جی ایس ٹی کی شرحوں میں کمی کے بعد ٹریکٹر، زرعی آلات، گھریلو اشیاء اور روایتی مصنوعات سستی ہوگئی ہیں، جس سے کسانوں، کاریگروں اور عام صارفین کو بڑی راحت ملی ہے۔

جی ایس ٹی میں اصلاحات سے نئی امیدیں

جی ایس ٹی کونسل کے حالیہ فیصلے نے عام شہریوں سے لے کر کسانوں تک سبھی کے لیے راحت کی نئی امیدیں پیدا کی ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے یوم آزادی پر لال قلعے سے اگلی جنریشن کی جی ایس ٹی اصلاحات (Next Generation GST Reforms) کا جو عزم ظاہر کیا تھا، وہ اب حقیقت بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ روزمرہ کی ضروریات سے متعلق اشیاء پر ٹیکس میں کمی سے عام صارفین کو سستے داموں سامان مل رہا ہے، جبکہ تاجروں اور صنعت کاروں کو بھی مسابقت کے بہتر مواقع حاصل ہوئے ہیں۔

کسانوں کے لیے بڑی راحت

اب گھریلو خواتین کا بجٹ بھی مسکرا رہا ہے۔ کھانے پینے کی چیزوں سے لے کر گھریلو سامان تک سب کچھ سستا ہوگیا ہے۔ کسانوں کے لیے تو جیسے خوشیوں کا تحفہ ہے۔ پہلے 35 ہارس پاور کے ٹریکٹر کی قیمت تقریباً 6.5 لاکھ روپے تھی، جو اب گھٹ کر 6.09 لاکھ روپے رہ گئی ہے یعنی 41 ہزار روپے کی سیدھی بچت۔ اسی طرح 45 ایچ پی ٹریکٹر پر 45 ہزار روپے، 50 ایچ پی پر 53 ہزار روپے، اور 75 ایچ پی ٹریکٹر پر 63 ہزار روپے تک کی رعایت ملی ہے۔ پاور ٹلر، دھان بونے کی مشین، پریشر پمپ، سیڈ ڈرل، ملچر، سپر سیڈر، ہیپی سیڈر اور اسپرے مشین جیسے زرعی آلات بھی اب سستے ہوگئے ہیں۔ کھیتی کو منافع بخش بنانے کے لیے مشینوں سے جوڑنا ضروری ہے۔ اسپرنکلر، ڈِرپ ایریگیشن، کٹائی کی مشین، ہائیڈرولک پمپ اور پرزہ جات پر جی ایس ٹی میں کمی سے اب چھوٹے کسان بھی جدید آلات خرید سکیں گے۔ اس سے محنت کم ہوگی، وقت بچے گا، پیداوار بڑھے گی اور خرچ گھٹنے سے آمدنی میں اضافہ ہوگا۔

شمالی بھارت کے لیے خصوصی پیکیج

جموں و کشمیر کے کسانوں کو باغبانی، اخروٹ، چیری اور زعفران کی صنعت میں ٹیکس کمی سے بڑا فائدہ ہوا ہے۔ ہماچل پردیش کی کانگڑا چائے، کُلو کے شال اور کانگڑا پینٹنگز پر ٹیکس گھٹا کر 5 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اتراکھنڈ کا تیز پتا، مُنسیاری راجما اور نینی تال کی لیچی کو بھی رعایت ملی ہے۔

کاریگروں اور ہنرمندوں کے لیے خوش خبری

جھارکھنڈ کی سہرای کھوور پینٹنگ، دھوکرہ آرٹ اور تسر ریشم، تمل ناڈو کی ایروڈ ہلدی، تنجاوور پینٹنگ اور ٹیکسٹائل صنعت، چھتیس گڑھ کا آئرن کرافٹ اور چانپا ریشمی ساڑیاں، کیرالہ کی مالابار کالی مرچ اور وائناڈ  کی کافی ان سبھی پر اب صرف 5 فیصد جی ایس ٹی لاگو ہوگا۔ اس سے مقامی کاریگروں اور کسانوں کو آتم نربھرتا (خود کفالت) کی نئی راہیں ملیں گی۔

بھارتی مصنوعات کے لیے نئی سمت

آندھرا پردیش کی گنٹور مرچ، تروپتی لڈو، پدوچیری کی ٹیراکوٹا آرٹ، کرناٹک کی میسور ریشم اور چن پٹنا کھلونے، مہاراشٹر کی کولہا پوری چپل اور الفانسو آم، پنجاب کی پھلکاری اور مکھانا، ہریانہ کے باسمتی چاول اور شمسی آلات، بہار کا کپڑا اور ڈیری مصنوعات اور اتر پردیش کی کھیلوں کی اشیاء اور چمڑے کی صنعت ان سبھی کو جی ایس ٹی میں کمی سے براہ راست فائدہ پہنچے گا۔

گجرات اور مہاراشٹر میں نئی معاشی سرگرمیاں

گجرات کے کپڑا اور ہیرا صنعت کو بڑی راحت ملی ہے۔ پیداواری لاگت گھٹے گی، برآمدات میں اضافہ ہوگا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ مہاراشٹر میں آٹوموبائل اور فوڈ پروسیسنگ سیکٹر کو نئی رفتار ملی ہے۔

سودیشی کے ساتھ خوشحال دیوالی

یہ تمام فیصلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت کا فوکس صرف بڑے کارپوریٹ اداروں پر نہیں، بلکہ دیہات، کسان، کاریگر اور عام شہری کی خوشحالی پر ہے۔ ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ اور ’میک اِن انڈیا‘ کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کی یہ ایک بڑی پیش رفت ہے۔ اب کی بار دیوالی سودیشی سامان کے ساتھ منائی جائے گی۔ ہرگھر میں خوشحالی، ہر کھیت میں ہریالی ہوگی۔ یہی ہے نئے بھارت کی پہچان — خود انحصاری، خوشحالی اور سودیشی فخر کے ساتھ آگے بڑھتا ہوا خوشحال بھارت۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read