Bharat Express DD Free Dish

Habiburrahman




Bharat Express News Network


وزیر اعظم مودی نے جاپان کی معروف یونیورسٹیوں میں بھارتی طلبہ کی تعداد بڑھانے اور پانچ لاکھ لوگوں کے تبادلے کے لئے ایکشن پلان کی بات کی۔ ساتھ ہی 50,000 بھارتی پروفیشنلز کو جاپان بھیجنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

وزیر اعظم مودی اور وزیر اعظم ایشیبا نے سینڈائی میں سیمی کنڈکٹر فیکٹری کا دورہ کیا اور بھارت اور جاپان کے درمیان سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ اور سپلائی چینز میں تعاون کے امکانات پر گفتگو کی۔

یہ وزیراعظم مودی کا چین کا پہلا دورہ ہے جو 2020 میں گلوان وادی میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد ہو رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں بھارت اور چین نے اپنے دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں اتراکھنڈ کے لپولیکھ پاس، ہماچل پردیش کے شپکی لا پاس اور سکم کے ناتھو لا پاس کے ذریعے تجارت کا دوبارہ آغاز شامل ہے۔

اقتصادی سلامتی بھارت اور جاپان کے تعاون کا ایک اہم ستون ہے، جس میں سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت، اہم معدنیات اور صاف توانائی شامل ہیں۔ بھارت کے لیے اس شراکت داری سے جدید ٹیکنالوجی تک رسائی، سپلائی چین کی مضبوطی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جو دونوں ممالک کے تزویراتی تعلقات کو مزید مستحکم کریں گے۔

جاپان کے وزیراعظم کی اہلیہ کو وزیراعظم مودی نے ایک اعلیٰ معیار کی پشمینہ شال تحفے میں دی، جو لداخ کی چانگ تھانگی بکری کے نرم، ہلکے اور گرم اون سے بنی ہے۔ کشمیری کاریگروں کے ہاتھ سے بنائی گئی یہ شال ایک صدیوں پرانی روایت کی نمائندہ ہے، جو کبھی شاہی خاندانوں کی پسندیدہ ہوا کرتی تھی۔

مہاتما ایّنکالی ہندوستان کے ایک عظیم سماجی مصلح تھے جو ٹراونکور ریاست سے تعلق رکھتے تھے اور دلتوں اور مظلوم طبقوں کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔ انہوں نے ’’سادھو جانا پریپالنا سنگھم‘‘ کی بنیاد رکھی اور بنیادی حقوق جیسے تعلیم کا حق، عوامی راستوں پر چلنے کا حق اور خواتین کے لیے موزوں لباس پہننے کا حق حاصل کرنے کے لیے کوشش کی، جس سے کیرالہ کے سماجی و سیاسی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیاں آئیں۔

وزیراعظم مودی نے 28 اگست 2014 کو جن دھن اسکیم کا آغاز کیا، جو دنیا کی سب سے بڑی مالی شمولیت کی پہل ثابت ہوئی۔ اس اسکیم کے ذریعے غریب اور پسماندہ لوگوں کی بینکنگ سہولیات تک رسائی یقینی ہوئی۔

نواکھائی مغربی اڑیسہ میں منایا جانے والا زرعی تہوار ہے جس میں کسان اور زرعی برادری اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس دن کسان نئے فصل کے اناج کو دیوتا کو پیش کرتے ہیں۔ پیشکش کے بعد، دوپہر میں لوگ رقص، کھیل اور دیگر تفریحی سرگرمیاں منعقد کرتے ہیں۔

نوٹیفکیشن کے بعد چھٹے دن بھی ضلع عدالتوں میں وکلا کی ہڑتال جاری رہی۔ راؤز ایونیو کورٹ میں کام مکمل طور پر بند ہے اور کورٹ میں آنے والے عام شہری اپنی تاریخوں کے انتظار میں پریشان کھڑے ہیں۔ وکلا مختلف پروٹیسٹ مارچ اور دھرنوں کے ذریعے نوٹیفکیشن کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

سپریم کورٹ کا اہم حکم، چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گوئی اور جسٹس کے ونود چندرن کی بنچ نے واضح کیا کہ مستقبل میں کسی بھی ایف آئی آر میں گرفتاری کے لیے عدالت کی اجازت ضروری ہوگی۔