ریٹائرڈ ہائی کورٹ جج جسٹس ارونا جگدیسن، جنہیں تمل ناڈو حکومت نے کرور بھگدڑ واقعہ کی جانچ کے لیے ایک رکنی تحقیقاتی کمیشن کا سربراہ مقرر کیا ہے، اتوار کی شام تریچی ایئرپورٹ پہنچیں۔ وہاں سے وہ سڑک کے راستے کرور گئیں۔ میڈیا سے مختصر گفتگو میں انہوں نے کہا کہ کمیشن کا مقصد خامیوں کو دور کرنا ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں۔
بھگدڑ میں 40 افراد ہلاک
کرور کے کلکٹر ایم۔ تھنگاویل نے تصدیق کی کہ اداکار اور رہنما وجے کی سیاسی ریلی میں بھگدڑ سے کم از کم 40 افراد ہلاک ہوئے۔ بتایا گیا کہ جلسہ گاہ میں بھیڑ بے قابو ہو گئی جس سے افراتفری مچ گئی۔ متعدد افراد بے ہوش ہو کر گر پڑے اور قریبی اسپتالوں میں منتقل کیے گئے۔ وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن نے رات ہی اسپتال پہنچ کر زخمیوں کی عیادت کی اور جاں بحق افراد کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے مرنے والوں کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے اور زخمیوں کو ایک لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا۔
فوری راحت اور طبی سہولتیں
ریاستی حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر اسپتالوں میں اضافی بستر فراہم کیے اور ڈاکٹروں کی ٹیمیں تعینات کیں۔ کلکٹر نے پریس کانفرنس میں کہا کہ متاثرہ خاندانوں کے لیے اسپتال میں ہیلپ ڈیسک قائم کیا گیا ہے تاکہ انہیں فوری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وجے اور مرکزی حکومت کی مدد
اداکار وجے نے بھی متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین کو 20 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 2 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے بھی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے پی ایم ریلیف فنڈ سے مرنے والوں کے لواحقین کو 2 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50 ہزار روپے دینے کا اعلان کیا۔
تعزیت اور حفاظتی انتظامات پر زور
کرناٹک کے وزیر داخلہ جی۔ پرمیشور نے اس حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ بڑے اجتماعات میں بہتر سکیورٹی انتظامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے پروگراموں میں مزید سکیورٹی فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس طرح کے سانحات کو روکا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


