Bharat Express DD Free Dish

Mutual unity essential for the the country: ملک کی ترقی کے لیے تمام مذاہب کے ماننے والوں کا باہمی اتحاد ضروری– ڈاکٹر ظفرالاسلام خان

پروگرام میں سید محمد نوراللہ نے سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے دہلی میں اوقاف کی جائیدادوں اور آثارِ قدیمہ کے محکمے کے تحت آنے والی املاک کی صورتحال پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

 

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت (رجسٹرڈ) کی دہلی چیپٹر کی سالانہ عام اجلاس میں ملک کی وحدت، امن اور ترقی کے حوالے سے اہم خیالات پیش کیے گئے۔ مشاورت کے قومی صدر ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’ہندوستان کے شہریوں کے لیے ملک سب سے مقدم ہے۔ ملک کی ترقی اور امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ تمام مذاہب کے ماننے والے باہمی اتحاد و اتفاق کے ساتھ رہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں کشیدگی اور بے چینی سے ملک کی ترقی ممکن نہیں۔

غریب خاندانوں کے بچوں کی تعلیم پرزور

ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ مٹھی بھر لوگ فرقہ وارانہ فساد پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ملک کا ماحول خراب ہو جائے، لیکن ملک کی 90 فیصد عوام امن و بھائی چارے کی خواہش رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ ہم ایک دوسرے کے تہواروں، سماجی پروگراموں اور تقریبات میں شرکت کریں تاکہ باہمی قربت اور اعتماد میں اضافہ ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ مسلمانوں کے مسائل کا حل آئین اور عدلیہ کے دائرے میں رہتے ہوئے تلاش کیا جانا چاہیے، اور کسی بھی حال میں ملک کے ماحول کو بگڑنے نہیں دینا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے دہلی چیپٹر کے ذمہ داروں کو تاکید کی کہ وہ غریب خاندانوں کے بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دیں۔

وقف جائیدادوں سے متعلق پیچیدگیوں پر تفصیلی گفتگو

دہلی چیپٹر کے صدر سید محمد نوراللہ نے سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے دہلی میں اوقاف کی جائیدادوں اور آثارِ قدیمہ کے محکمے کے تحت آنے والی املاک کی صورتحال پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ آر ٹی آئی کے ذریعے کئی اہم معلومات حاصل کی گئی ہیں تاکہ حالات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔ سینئر ایڈووکیٹ فیروز خان غازی نے آثارِ قدیمہ کے محکمے سے متعلق قانونی باریکیوں اور مسلمانوں کی وقف جائیدادوں سے متعلق پیچیدگیوں پر تفصیل سے بات کی۔ انہوں نے زور دیا کہ “امید پورٹل” پر وقف جائیدادوں کی تفصیلات جلد از جلد اپ لوڈ کی جانی چاہییں۔

خواتین کے تئیں رویے میں بہتری کی ضرورت

طیب نے دہلی میں مسلمانوں کی تعلیمی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حالات تشویشناک ہیں اور اس میدان میں بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ وہیں شاہین کوثر نے مسلمانوں میں خواتین کی سماجی حیثیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی معاشرے کا رویہ خواتین کے تئیں پوری طرح مثبت نہیں ہوا ہے اور اس میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر ایم اے جوہر نے انجام دی۔ پروگرام کا آغاز خلیق الزماں کی تلاوت قرآن اور اسلام کی تعلیمات پر ان کے خیالات سے ہوئی۔ سید شاداب حسین نے اظہار تشکر پیش کیا، جب کہ ڈاکٹر عبدالقادر کے دعائیہ کلمات سے پروگرام کا اختتام ہوا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read