Bharat Express DD Free Dish

social harmony

سوشل میڈیا پر جاری تصویر میں آچاریہ لوکیش اور گرو دیو روی شنکر کو خوشگوار ماحول میں تبادلۂ خیال کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جسے روحانی اور سماجی ہم آہنگی کی ایک مثبت علامت کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق مختلف مذاہب اور روحانی روایتوں سے وابستہ شخصیات کا ایک دوسرے کے لیے احترام اور خیر سگالی کا اظہار معاشرے میں اتحاد، رواداری اور امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

1990 میں تقریباً 57 ہزار خاندانوں کو وادی چھوڑنی پڑی تھی، جن میں بڑی تعداد کشمیری پنڈتوں کی تھی۔ یہ خاندان جموں، دہلی اور ملک کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ یہ ہجرت نہ صرف انسانی المیہ تھی بلکہ اس نے کشمیر کی صدیوں پرانی گنگا-جمنی تہذیب کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔

مرکزی وزیر اقلیتی امور کرن رجیجو خصوصی مہمان، دہلی حکومت کے وزیر آشیش سود اور بی جے پی لیڈر نشی کانت دوبے کی شرکت، صحافیوں، افسروں اور سماجی رہنماؤں کی کثیر تعداد نے تقریب کی رونق بڑھائی۔

تقریب میں سیاسی قیدیوں کے اہل خانہ، سینئر وکلاء، نامور سماجی کارکنان، معروف صحافیوں، اہم سول سوسائٹی کے نمائندوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی معزز شخصیات نے شرکت کی اور اجتماعی یادداشت اور عزم نو کا مظاہرہ کیا۔

پروگرام میں سید محمد نوراللہ نے سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے دہلی میں اوقاف کی جائیدادوں اور آثارِ قدیمہ کے محکمے کے تحت آنے والی املاک کی صورتحال پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

آر ایس ایس کی صد سالہ تقریبات میں وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’’دراندازوں سے پیدا ہونے والی آبادیاتی تبدیلی سماجی ہم آہنگی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ یہ سوال ہماری اندرونی سلامتی اور مستقبل سے جڑا ہے۔ اسی لیے میں نے لال قلعے سے ’ڈیموگرافک مشن‘ کا اعلان کیا تھا۔ ہمیں چوکس رہنا ہوگا اور اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہوگا۔‘‘

مدارس کی ایک طویل تاریخ ہے جو براہ راست ملک کی آزادی کی جدوجہد سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ریاستی قانون کے تحت ایک طبقہ اپنی تعلیم کو آگے بڑھانا چاہ رہا ہے تو حکومت کو اس پر اعتراض کیوں ہے؟ راؤت نے الزام عائد کیا کہ حکومت کا اصل ارادہ مدارس کو ختم کرنا ہے، لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہو پائے گی۔