Bharat Express DD Free Dish

CJP Condemns Jantar Mantar Denotification: جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے ہٹانے کی سی جے پی نے کی مذمت، کہا-’’انتظامی حکم سے ختم نہیں کیا جاسکتا اختلافِ رائے کا حق‘‘

سی جے پی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا اس کا مطالبہ برقرار ہے اور وہ جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے ہٹانے کے فیصلے کو چیلنج کرتی رہے گی۔ پارٹی نے کہا کہ وہ انتخابی جواب دہی کے مطالبے سے دست بردار نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی تاریخی احتجاجی مقام کو فہرست سے ہٹائے جانے کو پُرامن جمہوری جدوجہد سے پیچھے ہٹنے کی وجہ بننے دے گی۔

نئی دہلی: کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے جنتر منتر کو مقررہ احتجاجی مقامات کی فہرست سے ہٹائے جانے کی مذمت کرتے ہوئے اسے پُرامن اجتماع کے حق اور جمہوری جواب دہی کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔ پارٹی نے منگل کی صبح اپنے رہنماؤں اور رضاکاروں کو حراست میں لیے جانے کی بھی مذمت کی۔ یہ رہنما اور کارکن قومی پرچم لے کر جنتر منتر پہنچے تھے اور انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فوری استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے ہٹانے کا اعلان 12 اکتوبر کو کیا گیا، اسی روز سی جے پی کے نمائندے پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن پہنچے تھے۔ انہوں نے وہاں ایک خط پیش کرکے جنتر منتر پر مجوزہ پُرامن احتجاج کے لیے تاریخ اور وقت مقرر کرنے کی درخواست کی تھی۔

پُرامن احتجاج کے لیے تاریخ مانگی، لیکن مقام ہی فہرست سے ہٹا دیا گیا

پارٹی کے مطابق، اس نے پولیس کو احتجاج کی تاریخ اور وقت طے کرنے کا اختیار دیا تھا اور 24 گھنٹے کے اندر جواب دینے کی درخواست کی تھی۔ اس کے بعد جنتر منتر کو مقررہ احتجاجی مقام کی حیثیت سے ہٹانے کے حکم نے پُرامن اختلافِ رائے کے لیے عوامی مقامات تک رسائی کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ منگل کی صبح سی جے پی کے شریک کنوینر آشوتوش رنکا اور سورَو داس، قومی تنظیمی انچارج اجنکیا شندے اور پارٹی کے دیگر ارکان جنتر منتر پہنچے، جہاں دہلی پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ سی جے پی کے بانی اور قومی کنوینر ابھیجیت دیپکے نے کہا، ’’آپ مزاحمت کو فہرست سے خارج نہیں کر سکتے۔ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ جنتر منتر کو مقررہ احتجاجی مقامات کی فہرست سے ہٹانے سے جواب دہی کا مطالبہ کرنے والے لوگوں کی آواز خاموش ہو جائے گی تو اس نے اس تحریک کے مقصد کو نہیں سمجھا۔ جنتر منتر محض نقشے پر ایک مقام نہیں ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں شہری اقتدار میں بیٹھے لوگوں سے سوال کرنے کے لیے جمع ہوتے رہے ہیں، اور کوئی انتظامی حکم اس جمہوری جذبے کو مٹا نہیں سکتا۔‘‘

جنتر منتر کئی دہائیوں سے عوامی احتجاج کا اہم مرکز

جنتر منتر کئی دہائیوں سے عوامی مظاہروں کا ایک اہم مقام رہا ہے۔ یہاں شفافیت اور بدعنوانی کے خلاف تحریکوں، سابق فوجیوں کے لیے ’ون رینک ون پنشن‘ کے مطالبے، خواتین پہلوانوں کے احتجاج، کسانوں کی تحریکوں اور طلبہ کے مظاہروں سمیت متعدد عوامی مہمات منعقد ہوتی رہی ہیں۔ سی جے پی کا کہنا ہے کہ جنتر منتر کو مقررہ احتجاجی مقامات کی فہرست سے ہٹانے سے عوامی اختلافِ رائے کی نمایاں حیثیت کمزور پڑنے کا خدشہ ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں مظاہروں کو دارالحکومت کے مرکزی علاقے سے دور منتقل کیا جا سکتا ہے۔ پارٹی کے شریک کنوینر آشوتوش رنکا نے کہا، ’’آپ شہریوں سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ احتجاج کی اجازت لینے کے لیے حکام سے رجوع کریں اور پھر جب وہ اجازت مانگ رہے ہوں تو قواعد ہی تبدیل کر دیں۔ ہم پولیس اسٹیشن یہ پوچھنے گئے تھے کہ ہمارے مظاہرے کی تاریخ کب مقرر کی جا سکتی ہے۔ ہمارا مطالبہ واضح تھا کہ ہمیں بتایا جائے کہ ہم جنتر منتر پر پُرامن احتجاج کب کر سکتے ہیں۔ اس کے بجائے اس مقام کو ہی مقررہ احتجاجی مقامات کی فہرست سے ہٹا دیا گیا۔ ہم ایسا نظام قبول نہیں کریں گے جس میں احتجاج کا حق عملی طور پر بے معنی ہو جائے۔‘‘

متبادل مقامات جنتر منتر کی تاریخی اہمیت کی جگہ نہیں لے سکتے

سی جے پی نے کہا کہ یہ معاملہ صرف گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس بنیادی سوال سے بھی جڑا ہے کہ کیا شہری اقتدار میں بیٹھے افراد کو عوامی سطح پر چیلنج کر سکتے ہیں اور کیا انہیں ایسی جگہ پر اپنی آواز اٹھانے کا موقع مل سکتا ہے جہاں ان کے مطالبات لوگوں تک پہنچ سکیں۔ پارٹی کے مطابق، متبادل مقامات جنتر منتر کی تاریخی اور شہری اہمیت کی جگہ خودبخود نہیں لے سکتے، بالخصوص اس وقت جب احتجاج کا تعلق عوامی اداروں اور انتخابی جواب دہی جیسے معاملات سے ہو۔ سی جے پی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا اس کا مطالبہ برقرار ہے اور وہ جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے ہٹانے کے فیصلے کو چیلنج کرتی رہے گی۔ پارٹی نے کہا کہ وہ انتخابی جواب دہی کے مطالبے سے دست بردار نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی تاریخی احتجاجی مقام کو فہرست سے ہٹائے جانے کو پُرامن جمہوری جدوجہد سے پیچھے ہٹنے کی وجہ بننے دے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read