Bharat Express DD Free Dish

Former MP’s Son Dies Under Suspicious Circumstances: بھرت پور کے سابق رکن پارلیمنٹ رتن سنگھ کے بیٹے کی مشتبہ حالات میں موت، شکایت میں بہو اور پوتے کے نام شامل

پولیس رتن سنگھ کی شکایت کی بنیاد پر تحقیقات کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں خاندان کے افراد، پڑوسیوں اور شکایت کنندہ کی بہو کے رشتہ داروں سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ معاملے کی تفتیش ابھی جاری ہے۔

جے پور: راجستھان کے بھرت پور کے سابق رکن پارلیمنٹ رتن سنگھ نے پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ ان کے بیٹے راجندر پرتاپ سنگھ کو زہر دے کر قتل کیا گیا۔ ان کے مطابق، اس مبینہ سازش میں ان کی بہو نیتو سنگھ، پوتے سوربھ اور خاندان کے دیگر افراد شامل تھے۔ جے پور کے جواہر سرکل پولیس اسٹیشن میں معاملہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

سرکاری افسر کی مشتبہ حالات میں موت

راجستھان کے محکمۂ تعمیرات عامہ (پی ڈبلیو ڈی) میں ایگزیکٹیو انجینئر کے عہدے پر تعینات راجندر پرتاپ سنگھ کی 11 ستمبر کو مشتبہ حالات میں موت ہو گئی تھی۔ اپنی شکایت میں رتن سنگھ نے الزام لگایا کہ ان کے بیٹے کی موت ایک سازش کا حصہ تھی، جس کا مقصد ہمدردی کی بنیاد پر سرکاری ملازمت حاصل کرنا اور کروڑوں روپے کی جائیداد پر قبضہ کرنا تھا۔

سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈی وی آر ضبط

پولیس نے جائے وقوعہ کی جانچ اور شواہد جمع کرنے کے لیے فارنسک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) کی ٹیم کو طلب کیا ہے۔ فارنسک جانچ کے لیے گھر سے سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈر (ڈی وی آر) بھی ضبط کیے گئے ہیں۔ تحقیقاتی افسران موت کی اصل وجہ معلوم کرنے کے لیے ایف ایس ایل اور طبی رپورٹوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ خاندان کے افراد پر لگائے گئے الزامات کی اب تک آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

میاں بیوی کے درمیان تنازعات کا دعویٰ

شکایت کے مطابق، راجندر پرتاپ سنگھ اور نیتو سنگھ کی شادی 11 مئی 2005 کو ہوئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ شادی کے کچھ عرصے بعد ہی دونوں کے درمیان اختلافات شروع ہو گئے تھے، جس کے بعد راجندر نے فیملی کورٹ میں طلاق کی درخواست دائر کی تھی۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ نیتو سنگھ اور ان کا بیٹا سوربھ، راجندر سے الگ رہ رہے تھے۔ رواں سال مئی میں دونوں فریقوں کے درمیان باہمی سمجھوتہ ہوا، جس کے بعد نیتو سنگھ اور سوربھ جے پور کے مالویہ نگر میں واقع خاندانی گھر واپس آ گئے۔ حالانکہ، رتن سنگھ کا الزام ہے کہ ان کی واپسی کے بعد گھر میں کشیدگی بڑھ گئی اور جائیداد، مکان اور پیسوں کے معاملات پر اکثر جھگڑے ہونے لگے۔

جان سے مارنے کی دھمکی کا الزام

رتن سنگھ نے اپنی شکایت میں الزام لگایا کہ 4 ستمبر کو گھر میں جائیداد اور پیسوں کے لین دین کو لے کر شدید جھگڑا ہوا تھا۔ ان کے مطابق، اس دوران ان کے بیٹے کو جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی گئی تھی۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ 4 اور 5 ستمبر کو گھر میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کو خراب یا بند کر دیا گیا تھا، جس سے ان کے بیٹے کی موت سے متعلق واقعات پر شبہات پیدا ہوتے ہیں۔

لاش کے ہونٹ نیلے پڑنے پر زہر کا شبہ

سابق رکن پارلیمنٹ کے مطابق، جب راجندر کی لاش ملی تو ان کے ہونٹ نیلے پڑ گئے تھے۔ اسی وجہ سے انہیں شبہ ہے کہ یہ زہر دیے جانے کی علامت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعات کی کڑیاں جوڑنے اور موت سے متعلق حقائق کا پتہ لگانے کے لیے سی سی ٹی وی ڈی وی آر اور دیگر شواہد کی باریک بینی سے جانچ کی جائے۔

فارنسک اور پیتھالوجی رپورٹ کا انتظار

جواہر سرکل پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) مہیش چندر نے بتایا کہ افسران معاملے کے تمام پہلوؤں کی جانچ کر رہے ہیں۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد جمع کیے ہیں، سی سی ٹی وی ڈی وی آر ضبط کیا ہے اور پوسٹ مارٹم بھی کرایا ہے۔ جانچ کے لیے جسم کے اندرونی اعضا کے نمونے (ویسرا) ایف ایس ایل کو بھیجے گئے ہیں۔ ایس ایچ او کے مطابق، فی الحال فارنسک اور پیتھالوجی کی حتمی رپورٹوں کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

خاندان کے افراد سے پوچھ گچھ جاری

پولیس رتن سنگھ کی شکایت کی بنیاد پر تحقیقات کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں خاندان کے افراد، پڑوسیوں اور شکایت کنندہ کی بہو کے رشتہ داروں سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ معاملے کی تفتیش ابھی جاری ہے۔ راجندر پرتاپ سنگھ کی موت کی اصل وجہ، سازش اور زہر دیے جانے کے الزامات کی حقیقت فارنسک جانچ اور پولیس کی مزید تفتیش کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read