CJP Condemns Jantar Mantar Denotification: جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے ہٹانے کی سی جے پی نے کی مذمت، کہا-’’انتظامی حکم سے ختم نہیں کیا جاسکتا اختلافِ رائے کا حق‘‘
سی جے پی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا اس کا مطالبہ برقرار ہے اور وہ جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے ہٹانے کے فیصلے کو چیلنج کرتی رہے گی۔ پارٹی نے کہا کہ وہ انتخابی جواب دہی کے مطالبے سے دست بردار نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی تاریخی احتجاجی مقام کو فہرست سے ہٹائے جانے کو پُرامن جمہوری جدوجہد سے پیچھے ہٹنے کی وجہ بننے دے گی۔
Delhi’s Jantar Mantar de-notification: کیا جنتر منتر کو احتجاجی مقام کی فہرست سے ہٹانے کا دہلی پولیس کا فیصلہ قانونی طور پر درست ہے؟
سپریم کورٹ نے 2018 میں احتجاج پر مکمل پابندی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے محدود اور منظم مظاہروں کی اجازت دینے کی ہدایت دی تھی۔ اب رام لیلا میدان، براڑی میدان اور سی بی ڈی گراؤنڈ کو متبادل مقامات مقرر کیے جانے پر قانونی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
CJP’s March in Delhi: سی جے پی کی مجوزہ ریلی پر روک لگانے سے سپریم کورٹ کا انکار، ’احتجاج کرنا لوگوں کا حق، امن وامان برقرار رکھنا حکومت اور پولیس کی ذمہ داری‘
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ امن و امان برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اسے یقین ہے کہ حکومت قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داری ادا کرے گی۔ عدالت نے کہا کہ فی الحال اس کے سامنے ایسی کوئی بات نہیں ہے جس کی بنیاد پر اسے اس کے برعکس رائے قائم کرنے کی ضرورت ہو۔ بنچ نے کہا کہ تمام متعلقہ افراد سے ذمہ دارانہ اور پرامن رویے کی توقع کی جاتی ہے۔
No one has the right to shut down Bihar: بہار کو بند کرنے کی کسی کی حیثیت نہیں، روہت کمار سنگھ نے اپوزیشن کو بنایا تنقید کا نشانہ
یوا چیتنا کے سپریمو روہت کمار سنگھ نے اپوزیشن کے بہار بند کو مکمل ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ لالو پرساد یادو اور ان کے اتحاد کے ذریعہ بلایا گیا بہار بند ایک سپر فلاپ مظاہرہ تھا۔





