Bharat Express DD Free Dish

Democracy

بھارتی جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ ہر شہری کو سوال پوچھنے کا حق حاصل ہے۔ یہ حق کسی رہنما یا سیاسی جماعت کے لیے خطرہ نہیں، بلکہ ایک موقع ہے۔ جو جماعتیں اس موقع کو پہچان لیتی ہیں، وہی طویل عرصے تک عوامی حمایت برقرار رکھتی ہیں۔ اس کے برعکس، جو جماعتیں اس موقع کو خطرہ سمجھتی ہیں اور اسے دبانے کی کوشش کرتی ہیں،

مسلم راشٹریہ منچ کے کارکنان کنونشن میں راہل گاندھی، اپوزیشن اور CJP کی سیاست پر سخت سوالات؛ بنگلہ دیش اور پاکستان کے حالات سے سبق لینے کی اپیل، تعلیم، خواتین کے احترام، خاندانی اتحاد اور ملک کی تعمیر پر زور۔

سی جے پی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا اس کا مطالبہ برقرار ہے اور وہ جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے ہٹانے کے فیصلے کو چیلنج کرتی رہے گی۔ پارٹی نے کہا کہ وہ انتخابی جواب دہی کے مطالبے سے دست بردار نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی تاریخی احتجاجی مقام کو فہرست سے ہٹائے جانے کو پُرامن جمہوری جدوجہد سے پیچھے ہٹنے کی وجہ بننے دے گی۔

ملک کے مختلف حصوں میں عبادت گاہوں کو باربار نشانہ بنائے جانے، ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) اورپُرامن عوامی احتجاج پر عائد پابندیوں کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جماعت اسلامی ہند کے مرکزمیں منعقدہ پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے طریقۂ کارپرتشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ کے مطابق تقریباً 13 کروڑناموں کوووٹرفہرستوں سے باہرکردیا گیا ہے۔

این ایف وائی ایم نے 18 اگست کو جے این یو میں ’آئیڈیا آف انڈیا‘ پر ایک مکالمے کا انعقاد کیا ، جس میں ماہرین تعلیم ، سیاسی نمائندوں ، صحافیوں ، طلباء اور نوجوان لیڈروں کو ہندوستان کے جمہوری ، آئینی اور تکثیری کردار پر غور و فکر کرنے کے لیے اکٹھا کیا گیا ۔

راہل گاندھی نے فیس بک پر عرفان کے ساتھ ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ دہلی کی بستی کا ایک ایسا نوجوان ہے، جس کی سوچ اس کے حالات کی محتاج نہیں ہے۔ محمد عرفان کی گفتگو نے یہ بحث بھی چھیڑ دی ہے کہ شہری شعور اور آئینی سمجھ کے لیے کسی خاص سماجی یا معاشی پس منظر کا ہونا ضروری نہیں۔ ایک عام بستی سے تعلق رکھنے والا نوجوان بھی ملک کے آئینی نظام، اپنے حقوق اور شہری فرائض کے بارے میں گہری دلچسپی رکھ سکتا ہے۔

اصل مسئلہ صرف بی جے پی کا اقتدارمیں آنا نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مسلم سماج کو خود انحصاری پرمبنی سیاسی شعور نہیں دیا گیا۔ انہیں کوئی مضبوط بیک اَپ پلان نہیں دیا گیا، کوئی طویل مدتی حکمتِ عملی نہیں سکھائی گئی، کوئی متبادل قیادت تیار نہیں کی گئی اور نہ ہی کوئی ایسا مضبوط اجتماعی ڈھانچہ بنایا گیا، لہذا جو بدلتے سیاسی حالات میں قوم کا سہارا بن برسوں تک”سیکولر سیاست“ کے نام پر مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک بنا کر استعمال کیا جاتا رہا۔

جسٹس گوئی نے معروف قانون دان نانی پالکی والا کو بھی یاد کیا، جن کے دلائل کی بنیاد پر “کیشوانند بھارتی” مقدمے میں آئین کے “بنیادی ڈھانچے کے نظریے” کو تسلیم کیا گیا۔ انہوں نے 1975 کی ایمرجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس ایچ آر کھنہ کی جرات مندانہ اختلافی رائے کا ذکر کیا

الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق پورب بردھمان ضلع 92.46 فیصد ووٹنگ کے ساتھ سب سے آگے رہا۔ اس کے بعد ہگلی میں 90.34 فیصد، نادیہ میں 90.28 فیصد اور ہاوڑہ میں 89.44 فیصد ووٹنگ درج کی گئی۔

کچھ مقامات سے بدامنی کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم سکیورٹی کے سخت انتظامات اور مرکزی فورسز کی تعیناتی کے باعث مجموعی صورتحال قابو میں رہی۔ واضح رہے کہ تمام ریاستوں کے انتخابات کی ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہوگی، جس کے بعد حتمی نتائج سامنے آئیں گے۔