Bharat Express DD Free Dish

UPI MDR Charge: یو پی آئی کے ایم ڈی آر پر فی الحال راحت، 15 اکتوبر سے نافذ ہونے والا چارج ملتوی، دیوالی تک تاجروں پر نہیں بڑھے گا بوجھ

15 اکتوبر 2026 سے 2,000 روپے سے زیادہ کی یو پی آئی ادائیگیوں پر عائد ہونے والا 0.4 فیصد مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر) فی الحال ملتوی کر دیا گیا ہے۔ نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی) نے تہواروں کے موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے، جس سے دیوالی تک تاجروں اور صارفین کو راحت ملے گی۔

نئی دہلی: یو پی آئی کے ذریعے ہونے والی بڑی ادائیگیوں پر اضافی فیس عائد کرنے کی تیاری فی الحال روک دی گئی ہے۔ نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی) نے 13 اکتوبر کو ایک پریس نوٹ جاری کرکے واضح کیا کہ 15 اکتوبر 2026 سے نافذ ہونے والا نیا مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (MDR) فی الحال نافذ نہیں ہوگا۔ پہلے تجویز تھی کہ 2,000 روپے سے زیادہ کی یو پی آئی ادائیگیوں پر 0.4 فیصد ایم ڈی آر عائد کیا جائے، لیکن اب اس فیصلے کو دیوالی کے بعد تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

اب یو پی آئی ادائیگیوں پر کوئی اضافی فیس نہیں دینی ہوگی

ملک میں یو پی آئی نیٹ ورک چلانے والے این پی سی آئی نے کہا ہے کہ تہواروں کے دوران خریداری اور بازار کی سرگرمیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، پرسن- ٹو- مرچنٹ (P2M) کے درمیان ہونے والی ادائیگیوں پر مجوزہ فیس فی الحال عائد نہیں کی جائے گی۔ ادارے نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ نئے ضوابط نافذ کرنے کی اگلی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ کاروباری حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ دیوالی کے بعد نومبر کے دوسرے ہفتے میں اس معاملے پر نیا فیصلہ سامنے آ سکتا ہے۔

تاجروں اور فن ٹیک کمپنیوں کی مخالفت کا اثر

ایم ڈی آر نافذ کرنے کی تجویز پر تاجر تنظیموں اور فن ٹیک شعبے کی متعدد کمپنیوں نے تشویش ظاہر کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تہواروں کے دوران ادائیگیوں کی لاگت بڑھ جاتی ہے تو اس کا براہ راست اثر کاروبار پر پڑ سکتا ہے۔ پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کرنے والے بازار میں اس اقدام سے فروخت متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔ حکومت کی سطح پر بھی یہ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اضافی لاگت بڑھنے کی صورت میں تاجر اس کا بوجھ صارفین پر منتقل کر سکتے ہیں۔

صارفین پر بھی پڑ سکتا تھا بالواسطہ اثر

ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر تاجروں کو ہر بڑی یو پی آئی ادائیگی پر فیس دینی پڑتی تو وہ کسی نہ کسی صورت میں اس اضافی خرچ کی تلافی صارفین سے کر سکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ بازار کی موجودہ صورت حال اور تہواروں کے دوران بڑھتی ہوئی مانگ کو دیکھتے ہوئے یو پی آئی آپریٹنگ کمیٹی نے فی الحال اس فیصلے کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جنوری 2027 تک ملتوی کرنے پر بھی غور

منی کنٹرول کی 8 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، این پی سی آئی کے اندر ایم ڈی آر کے نفاذ کو مزید آگے بڑھانے کے امکانات پر بھی بات چیت جاری تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اسے جنوری 2027 تک ملتوی کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم، اس سلسلے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔

ایم ڈی آر نافذ ہوتا تو کتنی فیس دینی پڑتی؟

گزشتہ ماہ یو پی آئی آپریٹنگ کمیٹی نے تجویز دی تھی کہ 2,000 روپے سے زیادہ کی ادائیگیوں پر 0.4 فیصد ایم ڈی آر وصول کیا جائے۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی صارف کسی تاجر کو یو پی آئی کے ذریعے 2,000 روپے ادا کرتا تو تاجر کو اس رقم پر 0.4 فیصد کے حساب سے فیس دینی پڑتی۔ اسی طرح 10,000 روپے کی ادائیگی پر یہ فیس 40 روپے ہوتی۔ یہ رقم ڈیجیٹل ادائیگیوں کو مکمل کرنے والے نظام کے عملی اخراجات کے طور پر وصول کی جاتی۔

وزیر خزانہ نے بھی اہم اشارہ دیا تھا

8 اکتوبر کو وزیر خزانہ نے واضح کیا تھا کہ یو پی آئی پر ایم ڈی آر نافذ کرنے کا معاملہ متعلقہ فریقوں کے درمیان بات چیت کے ذریعے طے کیا جائے گا۔ حکومت نے اس بارے میں حتمی فیصلہ پیمنٹ ایکو سسٹم اور اس سے وابستہ متعلقہ فریقوں پر چھوڑ دیا تھا کہ اسے کب اور کس شکل میں نافذ کیا جائے۔

کارڈ اور یو پی آئی نیٹ ورک میں بڑا فرق

یو پی آئی پر ایم ڈی آر نافذ کرنے کا عمل کارڈ کے ذریعے ادائیگیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ سمجھا جا رہا ہے۔ ملک میں تقریباً 1.1 کروڑ ٹرمینلز پر کارڈ کے ذریعے ادائیگیاں قبول کی جاتی ہیں، جب کہ یو پی آئی کا دائرہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ فی الحال تقریباً 10 کروڑ تاجر یو پی آئی کے ذریعے ادائیگیاں وصول کرتے ہیں، جن میں چھوٹے قصبوں اور دیہی علاقوں کے کاروباری افراد بھی شامل ہیں۔

مختلف زمروں کی وجہ سے پیچیدگیاں بڑھ گئیں

کارڈ ادائیگیوں کے نظام میں فیس کا ڈھانچہ نسبتاً یکساں رہتا ہے، لیکن یو پی آئی نیٹ ورک میں مختلف قسم کے تاجروں اور ادائیگیوں کے زمروں کے لیے الگ الگ ضوابط اور شرحیں مقرر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یو پی آئی پر ایم ڈی آر نافذ کرنے کا فیصلہ صرف تکنیکی نہیں، بلکہ کاروباری اور پالیسی کی سطح پر بھی کافی پیچیدہ سمجھا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read