Bharat Express DD Free Dish

India economy

جاپانی بروکریج کمپنی نومورا نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ ریزرو بینک اکتوبر اور دسمبر کی پالیسی میٹنگز میں ریپو ریٹ میں مجموعی طور پر 0.50 فیصد تک اضافہ کرسکتا ہے، ایسا ہونے پر ہوم لون، کار لون اور پرسنل لون کی شرح سود پر اثر پڑ سکتا ہے۔

اکتوبر 2026 میں بینکنگ، ATM سے پیسے نکالنا، LPG KYC، FD، چھوٹی بچت اسکیموں اور انکم ٹیکس سے متعلق کئی اہم تبدیلیاں ہونے والی ہیں، تہواروں کے موسم میں کار، اے سی، ٹی وی اور فریج مہنگے ہونے کا بھی امکان۔

مودی حکومت نے AC، ٹی وی اور دیگر بڑے گھریلو آلات پرجی ایس ٹی 28 فیصد سے گھٹا کر 18 فیصد کیا، بلیو اسٹار، گوڈریج، ہائیر اور ڈائیکن نے عالمی سطح پر خام مال اور لاجسٹکس کی بڑھتی لاگت کے باعث قیمتوں میں 4 سے 10 فیصد اضافے کا اشارہ دیا۔

ملک میں خوردہ مہنگائی کی شرح جولائی کے 4.45 فیصد سے بڑھ کر اگست میں 4.82 فیصد ہوگئی۔ کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی پر دباؤ بڑھایا، جبکہ غذائی مہنگائی بھی جولائی کے 5.52 فیصد سے بڑھ کر اگست میں 5.95 فیصد ہوگئی۔

بھارت کی اقتصادی ترقی کا جائزہ عموماً مجموعی GDP کے اعداد و شمار سے لیا جاتا ہے، لیکن زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اس نمو کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں۔اپریل-جون کی کارکردگی میں پیداوار، خدمات، سرمایہ کاری اور صارفین کی طلب سمیت کئی شعبوں کا مجموعی کردار نظر آتا ہے، نہ کہ کسی ایک عارضی اضافے کا۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ شرح نمو ایسے وقت میں حاصل ہوئی ہے جب عالمی معیشت غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ سپلائی چین سے متعلق مسائل بھی موجود ہیں۔

آئی ای ایس اے اور سیمی انڈیا کے صدر اشوک چندک نے کہا کہ سیمی کون 2.0 بھارت کے لیے پالیسی سازی سے بڑے پیمانے پر عملی نفاذ کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ آلات پر خرچ 2028 تک تقریباً 230 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے اور بھارت اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے مضبوط پوزیشن میں ہے۔

حکومت کے مطابق اب تک 12 سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ یونٹس کو منظوری دی جا چکی ہے، جن میں 1.64 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری تجویز کی گئی ہے۔ ان منصوبوں میں ایک سلیکون فیب، ایک سلیکون کاربائیڈ فیب، ایک انٹیگریٹڈ گیلیم نائٹرائیڈ مائیکرو ایل ای ڈی ڈسپلے فیب اور نو پیکیجنگ یونٹس شامل ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ قومی یوریا سرمایہ کاری پالیسی-2026 کی منظوری کے بعد ان منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد ممکن ہوگا، جس سے ملکی پیداوار میں اضافہ اور یوریا کے شعبے میں خود کفالت کے ہدف کے حصول کو مزید تقویت ملے گی۔ واضح رہے کہ محکمۂ کھاد نے 2012 میں یوریا کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے پالیسی نافذ کی تھی۔

ڈیٹا سینٹر مارکیٹ 22 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ ٹیکنالوجی سے ماہر افرادی قوت کی مانگ میں بھی تیزی سے اضافہ ہونے کی امید کی جارہی ہے۔