RBI Repo Rate Hike: آر بی آئی ریپو ریٹ میں اضافے کا امکان، اکتوبر سے مہنگی ہو سکتی ہے ای ایم آئی، ہوم لون لینے والوں پر بڑھے گا بوجھ؟
جاپانی بروکریج کمپنی نومورا نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ ریزرو بینک اکتوبر اور دسمبر کی پالیسی میٹنگز میں ریپو ریٹ میں مجموعی طور پر 0.50 فیصد تک اضافہ کرسکتا ہے، ایسا ہونے پر ہوم لون، کار لون اور پرسنل لون کی شرح سود پر اثر پڑ سکتا ہے۔
October 2026 Rule Changes: آر بی آئی ریپو ریٹ سے لے کر فریج-اے سی اور آئی ٹی آر تک، یکم اکتوبر سے بدل جائیں گے یہ بڑے قواعد، جیب پر پڑ سکتا ہے براہِ راست اثر
اکتوبر 2026 میں بینکنگ، ATM سے پیسے نکالنا، LPG KYC، FD، چھوٹی بچت اسکیموں اور انکم ٹیکس سے متعلق کئی اہم تبدیلیاں ہونے والی ہیں، تہواروں کے موسم میں کار، اے سی، ٹی وی اور فریج مہنگے ہونے کا بھی امکان۔
PM Modi GST Relief: عالمی مہنگائی کے درمیان GST میں 10 فیصد کمی، صارفین کو بڑی راحت، یکم اکتوبر سے اپلائنسز مہنگے ہونے کا امکان
مودی حکومت نے AC، ٹی وی اور دیگر بڑے گھریلو آلات پرجی ایس ٹی 28 فیصد سے گھٹا کر 18 فیصد کیا، بلیو اسٹار، گوڈریج، ہائیر اور ڈائیکن نے عالمی سطح پر خام مال اور لاجسٹکس کی بڑھتی لاگت کے باعث قیمتوں میں 4 سے 10 فیصد اضافے کا اشارہ دیا۔
!Inflationary Pressure Rises Again: مہنگائی کا پھر بڑھا دباؤ! پیاز اور چینی کی قیمتوں نے بگاڑا بجٹ، اگست میں خوردہ مہنگائی 4.82 فیصد تک پہنچی
ملک میں خوردہ مہنگائی کی شرح جولائی کے 4.45 فیصد سے بڑھ کر اگست میں 4.82 فیصد ہوگئی۔ کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی پر دباؤ بڑھایا، جبکہ غذائی مہنگائی بھی جولائی کے 5.52 فیصد سے بڑھ کر اگست میں 5.95 فیصد ہوگئی۔
India’s Economy Posts Robust Growth Despite Mideast Energy Shock: بھارت کی معیشت نے مشرقِ وسطیٰ کے توانائی بحران کے باوجود مضبوط نمو درج کی
بھارت کی اقتصادی ترقی کا جائزہ عموماً مجموعی GDP کے اعداد و شمار سے لیا جاتا ہے، لیکن زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اس نمو کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں۔اپریل-جون کی کارکردگی میں پیداوار، خدمات، سرمایہ کاری اور صارفین کی طلب سمیت کئی شعبوں کا مجموعی کردار نظر آتا ہے، نہ کہ کسی ایک عارضی اضافے کا۔
India’s GDP Growth: عالمی غیر یقینی صورتحال کے درمیان بھارت کی 7.8 فیصد جی ڈی پی شرح نمو ’’بڑی کامیابی‘‘: وزیراعظم مودی
وزیراعظم نے کہا کہ یہ شرح نمو ایسے وقت میں حاصل ہوئی ہے جب عالمی معیشت غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ سپلائی چین سے متعلق مسائل بھی موجود ہیں۔
Global Semiconductor Hub: سیمی کنڈکٹر کا عالمی مرکز بننے کی راہ پر بھارت، ’سیمی کون 2.0‘ اور موبائل فون مینوفیکچرنگ اسکیم سے 3.6 لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع
آئی ای ایس اے اور سیمی انڈیا کے صدر اشوک چندک نے کہا کہ سیمی کون 2.0 بھارت کے لیے پالیسی سازی سے بڑے پیمانے پر عملی نفاذ کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ آلات پر خرچ 2028 تک تقریباً 230 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے اور بھارت اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے مضبوط پوزیشن میں ہے۔
Semicon 2.0 Scheme: وزیراعظم مودی کی قیادت میں کابینہ نے ’سیمی کون 2.0‘ اسکیم کو کیا منظور، سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ اور چپ ڈیزائن کو ملے گا بڑا فروغ
حکومت کے مطابق اب تک 12 سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ یونٹس کو منظوری دی جا چکی ہے، جن میں 1.64 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری تجویز کی گئی ہے۔ ان منصوبوں میں ایک سلیکون فیب، ایک سلیکون کاربائیڈ فیب، ایک انٹیگریٹڈ گیلیم نائٹرائیڈ مائیکرو ایل ای ڈی ڈسپلے فیب اور نو پیکیجنگ یونٹس شامل ہیں۔
National Urea Investment Policy: وزیراعظم کی صدارت میں کابینہ سے کھاد کی پیداوار بڑھانے کے لیے قومی یوریا سرمایہ کاری پالیسی-2026 کی ملی منظوری
حکومت کا کہنا ہے کہ قومی یوریا سرمایہ کاری پالیسی-2026 کی منظوری کے بعد ان منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد ممکن ہوگا، جس سے ملکی پیداوار میں اضافہ اور یوریا کے شعبے میں خود کفالت کے ہدف کے حصول کو مزید تقویت ملے گی۔ واضح رہے کہ محکمۂ کھاد نے 2012 میں یوریا کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے پالیسی نافذ کی تھی۔
Data Centers In India: بھارت میں تیزی سے روزگار کا بڑا ذریعہ بنے گی ڈیٹا سینٹر انڈسٹری، 2030 تک ایک لاکھ انجینئروں کی ہوگی ضرورت
ڈیٹا سینٹر مارکیٹ 22 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ ٹیکنالوجی سے ماہر افرادی قوت کی مانگ میں بھی تیزی سے اضافہ ہونے کی امید کی جارہی ہے۔





