Bharat Express DD Free Dish

India economy

مرکزی وزیر نے کہا کہ سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اب بھی تقریباً 2.18 لاکھ کروڑ روپے کے مجموعی خسارے کی تلافی کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کمپنیوں کے پاس اب بھی ایسا ایندھن موجود ہے جو اس وقت خریدا گیا تھا جب بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بہت زیادہ تھیں، اس لیے موجودہ حالات میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی عملی طور پر ممکن نہیں۔ ہردیپ سنگھ پوری نے کہا ’’اس وقت ایندھن کی قیمتوں میں کمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘

تحقیقات کے مطابق یہ مبینہ گھوٹالا 2017 سے 2020 کے درمیان انجام دیا گیا، جس میں موریہ ادیوگ، 7NR ریٹیل، دارجلنگ روپ وے کمپنی، جی بی ایل انڈسٹریز اور وشال فیبرکس سمیت پانچ فہرست بند کمپنیوں کے شیئروں کی قیمتوں اور ٹریڈنگ حجم میں مصنوعی اضافہ کیا گیا۔ بعد ازاں ان شیئروں کو زیادہ قیمت پر عام سرمایہ کاروں کو فروخت کر کے بھاری منافع حاصل کیا گیا۔

آر بی آئی کے مطابق روی شنکر ایک تجربہ کار مرکزی بینکنگ ماہرِ شماریات ہیں اور انہیں ریزرو بینک میں تین دہائیوں سے زیادہ عرصے کا تجربہ حاصل ہے۔ اپنے طویل کیریئر کے دوران انہوں نے کارپوریٹ اور بینکنگ شماریات، سرکاری سکیورٹیز مارکیٹ، سیٹلمنٹ سسٹم، قرض کے انتظام اور مختلف اقتصادی سروے جیسے اہم شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔

اگرچہ ایس بی آئی نے مسلسل ترقی کی ہے، تاہم اسے نجی بینکوں اور فن ٹیک کمپنیوں سے بڑھتے ہوئے مقابلے، سائبر سکیورٹی، ڈیجیٹل فراڈ کی روک تھام اور صارفین کی بدلتی ہوئی توقعات جیسے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ اس کے باوجود مضبوط مالی بنیاد، وسیع صارف نیٹ ورک اور عوام کے اعتماد کی بدولت ایس بی آئی آج بھی بھارتی بینکاری نظام کا سب سے معتبر ادارہ شمار کیا جاتا ہے۔

وزیراعظم نے یاد دلایا کہ رواں سال مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی کے دوران انہوں نے عوام سے ورک فرام ہوم کو ترجیح دینے، ایندھن کی کھپت کم کرنے، ایک سال تک غیر ملکی سفر سے گریز کرنے، دیسی مصنوعات اپنانے، خوردنی تیل کے استعمال میں کمی، قدرتی کھیتی کو فروغ دینے اور سونے کی خریداری محدود کرنے کی اپیل کی تھی۔

وزارتِ خزانہ کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے ایس بی آئی کے چیئرمین سی ایس شیٹی سے مالی سال 2025-26 کے لیے 8,813 کروڑ روپے کا منافع وصول کیا ہے۔ یہ منافع سرکاری شعبے کے اس بڑے بینک کی مضبوط مالی کارکردگی کی عکاسی کرتا ہے۔

تازہ اعداد و شمار سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ بھارت دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ آنے والے مہینوں میں بھی اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ جاری رہے گا اور ترقی کی رفتار مزید مستحکم ہوگی۔

راہل گاندھی نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں ایک ’’معاشی طوفان‘‘ آنے والا ہے، جس کے نتیجے میں شدید مہنگائی ہوگی، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھیں گی اور کھاد کی قلت پیدا ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ مودی حکومت نے بھارت کا معاشی نظام فروخت کر دیا ہے۔ اب جو معاشی بحران آنے والا ہے، اس سے حکومت عوام کو نہیں بچا سکے گی۔‘‘

ریکھا گپتا نے کہا کہ ملک کی خواتین گھروں میں رہ کر چھوٹے کاروبار، دستکاری، کھادی اور گھریلو مصنوعات کے ذریعے نہ صرف اپنے خاندان کی آمدنی بڑھا رہی ہیں بلکہ قومی معیشت کو بھی مضبوط بنا رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ غیر ملکی اشیا کے بجائے مقامی اور سودیشی مصنوعات کے استعمال کو ترجیح دیں۔

نئی قیمتوں کے بعد دہلی میں سی این جی کی قیمت 80.09 روپے فی کلو ہو گئی ہے، جبکہ نوئیڈا اور غازی آباد میں یہ بڑھ کر 88.70 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے قبل 15 مئی کو سی این جی کی قیمت میں 2 روپے فی کلو اضافہ کیا گیا تھا۔ تازہ اضافے کے بعد گزشتہ 48 گھنٹوں میں مجموعی طور پر سی این جی 3 روپے فی کلو مہنگی ہو چکی ہے۔