نئی دہلی: یکم جولائی بھارتی بینکاری کی تاریخ میں ایک اہم دن مانا جاتا ہے، کیونکہ اسی روز 1955 میں ملک کے سب سے بڑے سرکاری بینک اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اپنے قیام کے 71 برس مکمل کرنے والا یہ بینک آج صرف ایک مالیاتی ادارہ نہیں بلکہ بھارت کی اقتصادی ترقی، مالی شمولیت اور ڈیجیٹل بینکنگ انقلاب کا ایک مضبوط ستون بن چکا ہے۔
دو صدیوں پر محیط تاریخی سفر
ایس بی آئی کی تاریخ آزادیٔ ہند سے بھی پہلے شروع ہوتی ہے۔ اس کی بنیاد 1806 میں قائم ہونے والے بینک آف کلکتہ سے جڑی ہوئی ہے۔ بعد میں یہ ادارہ امپیریل بینک آف انڈیا کے نام سے معروف ہوا، جسے یکم جولائی 1955 کو قومی تحویل میں لے کر اسٹیٹ بینک آف انڈیا قائم کیا گیا۔ اس وقت حکومت کا بنیادی مقصد بینکاری کی سہولتیں ملک کے دور دراز دیہی علاقوں تک پہنچانا اور عام شہریوں کو ترقی کے دھارے سے جوڑنا تھا۔ سات دہائیوں بعد یہ مقصد بڑی حد تک پورا ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
ملک کا سب سے بڑا بینکاری نیٹ ورک
اس وقت ایس بی آئی ملک کے سب سے بڑے بینکاری نیٹ ورک کا انتظام کر رہا ہے۔ بینک کے پاس 23 ہزار 270 شاخیں اور 63 ہزار 580 سے زائد اے ٹی ایم اور اے ڈی ڈبلیو ایم (ADWM) موجود ہیں۔ بینک کے 50 کروڑ سے زیادہ صارفین ہیں، جبکہ اس کے مجموعی اثاثوں (Assets) کی مالیت 61 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔
اقتصادی ترقی اور مالی شمولیت میں اہم کردار
ایس بی آئی کا کردار صرف روایتی بینکاری تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے زراعت، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایم ایس ایم ای)، بنیادی ڈھانچے، رہائشی منصوبوں، تعلیم اور کارپوریٹ شعبے کو مالی معاونت فراہم کرنے میں بھی نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ اسی طرح پردھان منتری جن دھن یوجنا، ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر (ڈی بی ٹی)، اٹل پنشن یوجنا، سماجی تحفظ کی مختلف اسکیموں اور سرکاری سبسڈی کی تقسیم میں بھی بینک نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ مالی شمولیت کے میدان میں ایس بی آئی نے ایسے کروڑوں افراد کو باضابطہ بینکاری نظام سے جوڑا جو پہلے اس سہولت سے محروم تھے۔
ڈیجیٹل بینکاری میں نئی شناخت
ڈیجیٹل بینکاری کے دور میں ایس بی آئی نے خود کو تیزی سے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا ہے۔ بینک کے یونو (YONO) پلیٹ فارم نے بینکاری، سرمایہ کاری، انشورنس، خریداری اور دیگر مالی خدمات کو ایک ہی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر فراہم کر کے صارفین کے تجربے کو نئی جہت دی ہے۔ اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت (AI)، ڈیٹا اینالیٹکس اور ڈیجیٹل ادائیگیوں جیسی جدید ٹیکنالوجی کو اپناتے ہوئے بینک مستقبل کی بینکاری کے لیے بھی خود کو تیار کر رہا ہے۔
ترقی کی داستان، چیلنجز بھی برقرار
اگرچہ ایس بی آئی نے مسلسل ترقی کی ہے، تاہم اسے نجی بینکوں اور فن ٹیک کمپنیوں سے بڑھتے ہوئے مقابلے، سائبر سکیورٹی، ڈیجیٹل فراڈ کی روک تھام اور صارفین کی بدلتی ہوئی توقعات جیسے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ اس کے باوجود مضبوط مالی بنیاد، وسیع صارف نیٹ ورک اور عوام کے اعتماد کی بدولت ایس بی آئی آج بھی بھارتی بینکاری نظام کا سب سے معتبر ادارہ شمار کیا جاتا ہے۔ ایس بی آئی کے 71 برس کا یہ سفر صرف ایک بینک کی کامیابی کی کہانی نہیں بلکہ بھارت کی اقتصادی ترقی کا بھی آئینہ دار ہے۔ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خود کو مسلسل جدید بناتے ہوئے اس ادارے نے ثابت کیا ہے کہ روایت اور جدید ٹیکنالوجی کا متوازن امتزاج کسی بھی ادارے کو طویل عرصے تک مؤثر اور کامیاب بنا سکتا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے برسوں میں ڈیجیٹل اختراعات، گرین فنانس اور عالمی سطح پر توسیع کے ذریعے اسٹیٹ بینک آف انڈیا ملک کی ترقی میں اپنا کردار مزید مستحکم کرے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

