Bharat Express DD Free Dish

India economy

اوبر کے سی ای او دارا خسرو شاہی نے کہا ہے کہ بھارت تیزی سے کمپنی کا عالمی انوویشن ہب بن رہا ہے۔ نئی سرمایہ کاری سے ’’انڈیا سے دنیا کے لیے‘‘ ٹیکنالوجی تیار ہوگی۔ یہ منصوبہ اڈانی گروپ کے اشتراک سے شروع کیا جا رہا ہے۔

وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ضروری اشیا کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پرسکون رہیں، صبر کا مظاہرہ کریں اور گھبراہٹ یا غیر ضروری خریداری سے بچیں۔ حکومت کے مطابق ملک میں ضروری اشیا کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔

پرنو اڈانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ دن صرف ایک پروجیکٹ کی شروعات نہیں بلکہ مدھیہ پردیش کی ترقی کو نئی سمت دینے والا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے ’’پی ایم گتی شکتی وژن‘‘ کے تحت لاجسٹکس، انڈسٹریل انفراسٹرکچر اور ٹرانسپورٹیشن سہولیات میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس سے سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوا ہے۔

افسران کے مطابق، ٹیکس وصولی اور تعمیل کی نگرانی کے لیے مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالیٹکس اور ڈیجیٹل فارنسک جیسی جدید تکنیکوں کا استعمال کیا جائے گا۔ سی بی ڈی ٹی حکام نے بتایا کہ ٹیکس وصولی ٹیمیں نادہندگان سے جڑی جائیدادوں اور رہن رکھی گئی اثاثوں کا پتہ لگانے کے لیے سی ای آر ایس اے آئی کے مارگیج اور اثاثہ جاتی ڈیٹا بیس سے بھی مدد لے سکتی ہیں۔

پی ایچ ڈی سی سی آئی کے جنرل سکریٹری اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر رنجیت مہتا نے کہا کہ اس دورے کے نتائج بھارت کی ’’ایکٹ ایسٹ پالیسی‘‘ کو مزید مضبوط کریں گے، کیونکہ اس سے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ تزویراتی تعاون میں توسیع ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ویتنام کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون رابطہ کاری، تجارتی استحکام اور اہم شعبوں میں طویل مدتی صنعتی شراکت داری کو تقویت دے گا۔

سمٹ میں ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بھارت کلین انرجی، معیشت اور ماحولیات کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ بڑے پیمانے پر رینیوایبل انرجی منصوبے نہ صرف معیشت کو مضبوط کریں گے بلکہ ماحول کے تحفظ میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔ جیفری سیکس نے کہا کہ اگر بھارت نے بڑے خوابوں کے ساتھ اسی رفتار سے کام جاری رکھا تو 2047 کا ہدف حاصل کرنا ممکن ہے، اور ملک عالمی معیشت میں ایک مضبوط مقام حاصل کر لے گا۔

کمپنی نے ایک اہم سنگ میل حاصل کرتے ہوئے ایک ہی سال میں 50 کروڑ میٹرک ٹن سے زائد بندرگاہی کارگو سنبھالنے والی بھارت کی پہلی مربوط ٹرانسپورٹ کمپنی بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ بین الاقوامی سطح پر بھی کمپنی کی کارکردگی مضبوط رہی، جہاں آسٹریلیا اور کولمبو میں آپریشنز کی توسیع کے باعث بیرونِ ملک بندرگاہی آمدنی میں 34 فیصد اضافہ ہوا۔

چوتھی سہ ماہی کے دوران کمپنی کی بجلی فروخت 27.2 بلین یونٹس رہی، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 26.4 بلین یونٹس کے مقابلے میں معمولی زیادہ ہے۔ پورے مالی سال 2025-26 کے دوران کمپنی کا خالص منافع 12,971 کروڑ روپے رہا، جو گزشتہ سال کے 12,750 کروڑ روپے کے مقابلے میں معمولی اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ 

یہ منصوبہ صرف ڈیجیٹل انفراسٹرکچر تک محدود نہیں بلکہ آندھرا پردیش کی معیشت کو بھی مضبوط کرے گا۔ اس سے مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ریاست کو عالمی ڈیجیٹل نقشے پر ایک اہم مقام حاصل ہوگا۔

بھارت نے اس معاہدے کے دوران اپنے حساس زرعی اور ڈیری سیکٹر کا تحفظ بھی یقینی بنایا ہے۔ دودھ، کریم، مکھن، دہی، پنیر اور دیگر زرعی مصنوعات کو اس ایف ٹی اے سے باہر رکھا گیا ہے، تاکہ مقامی کسانوں اور صنعت کو نقصان نہ پہنچے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور انسانی وسائل کے تبادلے کو نئی رفتار دینے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔