نئی دہلی: ویتنام کے صدر تو لام کے دورۂ ہند کے دوران بھارت اور ویتنام کے تعلقات کو ’’اعلیٰ جامع تزویراتی شراکت داری‘‘ تک پہنچا دیا گیا ہے۔ پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (پی ایچ ڈی سی سی آئی) نے کہا ہے کہ اس سے بھارت کو اہم خام وسائل تک بہتر رسائی حاصل ہوگی اور برآمدات، سرمایہ کاری اور مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں طویل مدت تک نمایاں فائدہ پہنچے گا۔ پی ایچ ڈی سی سی آئی کے صدر راجیو جونیجا نے کہا کہ یہ دوطرفہ شراکت داری سپلائی چین کو مضبوط بنانے، مینوفیکچرنگ تعاون، ڈیجیٹل رابطہ کاری اور تکنیکی اشتراک کے لیے ایک مضبوط فریم ورک تیار کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ نئے دوطرفہ معاہدے بھارت کی میک اِن انڈیا، ڈیجیٹل انڈیا، دواسازی برآمدات میں توسیع، سیمی کنڈکٹر اور الیکٹرانکس ماحولیاتی نظام کی ترقی اور اہم معدنیات کی سپلائی چین کو متنوع بنانے جیسی پہل قدمیوں کے مطابق ہیں۔
اہم معدنیات اور الیکٹرانکس شعبے کو فائدہ
رپورٹ کے مطابق نایاب اور اہم معدنیات میں تعاون سے بھارت کو الیکٹرک گاڑیوں، سیمی کنڈکٹر، الیکٹرانکس، قابلِ تجدید توانائی اور دفاعی مینوفیکچرنگ کے لیے ضروری وسائل تک بہتر رسائی ملے گی، جس سے سپلائی سکیورٹی اور جدید مینوفیکچرنگ کو فروغ حاصل ہوگا۔ دواسازی کے شعبے میں ضابطہ جاتی تعاون سے بھارتی جینرک ادویات اور طبی آلات کو ویتنامی بازار تک زیادہ رسائی حاصل ہوگی، جہاں بھارتی مصنوعات پہلے ہی مسابقتی برتری رکھتی ہیں۔ اسی طرح الیکٹرانکس، سیمی کنڈکٹر، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور آئی ٹی خدمات میں تکنیکی اشتراک سے عالمی ڈیجیٹل ویلیو چین میں بھارت کی حیثیت مزید مضبوط ہوگی۔
روزگار اور تجارت میں اضافے کی امید
زرعی برآمدات، سیاحت، ہوا بازی، شہری بنیادی ڈھانچے اور اسمارٹ سٹی منصوبوں جیسے شعبوں کو بھی اس شراکت داری سے فائدہ پہنچنے کی توقع ہے، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ پی ایچ ڈی سی سی آئی کے جنرل سکریٹری اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر رنجیت مہتا نے کہا کہ اس دورے کے نتائج بھارت کی ’’ایکٹ ایسٹ پالیسی‘‘ کو مزید مضبوط کریں گے، کیونکہ اس سے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ تزویراتی تعاون میں توسیع ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ویتنام کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون رابطہ کاری، تجارتی استحکام اور اہم شعبوں میں طویل مدتی صنعتی شراکت داری کو تقویت دے گا۔
2030 تک 25 ارب ڈالر تجارت کا ہدف
نئی تزویراتی شراکت داری کے تحت دونوں ممالک نے 2030 تک دوطرفہ تجارت کو 25 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ صدر تو لام کے دورے کے دوران نایاب معدنیات، ڈیجیٹل ادائیگی، دواسازی، الیکٹرانکس، سیاحت، ثقافت، شہری ترقی، تعلیم اور تکنیکی تعاون سمیت کئی شعبوں میں مفاہمت ناموں پر دستخط کیے گئے۔ وزیراعظم نریندر مودی اور صدر تو لام کے درمیان مذاکرات کے بعد جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک بھارتی انگور اور انار جبکہ ویتنامی ڈوریان اور چکوترا جیسے زرعی مصنوعات کے لیے بازار تک رسائی کو آسان بنائیں گے۔ ویتنام نے اپنی سپلائی کے ذرائع کو متنوع بنانے اور گھریلو پیداوار و برآمدی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھارت سے مزید مصنوعات درآمد کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
