Bharat Express DD Free Dish

Bilateral Trade

وزیر اعظم نریندر مودی کی دعوت پر بیلجیم کے وزیر اعظم بارٹ ڈی ویور 2 سے 4 ستمبر تک بھارت کے سرکاری دورے پر ہیں۔ ان کے ہمراہ بیلجیم کے وزیر دفاع و خارجہ تجارت تھیو فرانکن کے علاوہ اعلیٰ حکام اور کاروباری لیڈروں کا ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی بھارت آیا ہے۔ فروری 2025 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد ڈی ویور کا یہ پہلا بھارت دورہ ہے۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ یہ دونوں معاہدے اعلیٰ سطحی سفارتی عزائم کو عوام کے لیے حقیقی معاشی مواقع میں تبدیل کریں گے اور بھارت کے کسانوں، کاروباری افراد، چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعت کاروں (ایم ایس ایم ایز) اور ہنرمند افرادی قوت کے لیے نئی راہیں کھولیں گے۔

یہ پیش رفت اس ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے جس میں گزشتہ جون امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے امریکی وفد کے ہمراہ بھارت کے مرکزی وزیرتجارت و صنعت پیوش گوئل سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں عبوری تجارتی معاہدے سے متعلق مذاکرات کو آگے بڑھانے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد البانیز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک سیلفی شیئر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک مل کر اپنی معیشتوں کو مضبوط بنا رہے ہیں اور آسٹریلوی و بھارتی کاروباری اداروں کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سلامتی کے شعبے میں تعاون گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ برہموس میزائل کی فروخت سمیت اعلیٰ سطحی دوروں، مشترکہ فوجی مشقوں اور دفاعی صنعت میں تعاون نے اس شراکت داری کو نئی سمت دی ہے۔ بحر ہند کے اہم سمندری پڑوسی بھارت اور انڈونیشیا نے 2018 میں ہند-بحرالکاہل خطے میں مشترکہ سمندری وژن اختیار کیا تھا۔ آئی ایف سی-آئی او آر میں انڈونیشیا کے رابطہ افسر کی تعیناتی سے میری ٹائم ڈومین آگاہی کو مزید تقویت ملے گی۔

ہندوستان اور نیدرلینڈس نے گجرات کے لوتهل میں قائم ہونے والے نیشنل میری ٹائم ہیریٹیج کمپلیکس (NMHC) کے فروغ کے لیے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ ایمسٹرڈم کے نیشنل میری ٹائم میوزیم اور ہندوستانی وزارتِ بندرگاہ و جہازرانی کے درمیان طے پایا۔

سیاسی اور سفارتی ماہرین کے مطابق وزیر اعظم مودی کا یہ پانچ ملکی دورہ عالمی سطح پر بھارت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔

پی ایچ ڈی سی سی آئی کے جنرل سکریٹری اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر رنجیت مہتا نے کہا کہ اس دورے کے نتائج بھارت کی ’’ایکٹ ایسٹ پالیسی‘‘ کو مزید مضبوط کریں گے، کیونکہ اس سے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ تزویراتی تعاون میں توسیع ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ویتنام کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون رابطہ کاری، تجارتی استحکام اور اہم شعبوں میں طویل مدتی صنعتی شراکت داری کو تقویت دے گا۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ’’انڈیا-کوریا ڈیجیٹل برج‘‘ بھی لانچ کیا جائے گا، جب کہ شپ بلڈنگ، اسٹیل، پائیدار ترقی اور دیگر شعبوں میں نئے ایم او یوز پر دستخط کیے جائیں گے۔ فلم، اینیمیشن اور گیمنگ کے شعبوں میں بھی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔

مالی سال 2026 میں مجموعی برآمدات میں 1 فیصد اضافہ ہوا، جس میں امریکہ کے ٹیرف کے اثر کو نئے بازاروں میں برآمدات بڑھا کر متوازن کیا گیا۔اشیا کے تجارتی خسارے میں کمی کی بڑی وجہ سونے کی درآمد میں 59 فیصد اور چاندی کی درآمد میں 63 فیصد کی گراوٹ رہی۔