نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی اپنے تین ملکی دورے کے پہلے مرحلے میں انڈونیشیا پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ 6 سے 8 جولائی تک قیام کریں گے۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دفاع، تجارت، سرمایہ کاری، سمندری سلامتی، اہم معدنیات، ڈیجیٹل رابطے اور عوامی روابط سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر زور دیا جائے گا۔ وزیر اعظم مودی انڈونیشیا میں مقیم بھارتی برادری سے بھی ملاقات کریں گے۔ وزیر اعظم مودی کے اس دورے کا بنیادی مقصد بھارت اور انڈونیشیا کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ مئی 2018 میں دونوں ممالک کے تعلقات کو جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک پہنچانے کے بعد یہ وزیر اعظم مودی کا پہلا دوطرفہ دورہ ہوگا، جبکہ مجموعی طور پر یہ ان کا انڈونیشیا کا چوتھا دورہ ہے۔
دفاعی اور سمندری تعاون میں مزید وسعت
دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سلامتی کے شعبے میں تعاون گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ برہموس میزائل کی فروخت سمیت اعلیٰ سطحی دوروں، مشترکہ فوجی مشقوں اور دفاعی صنعت میں تعاون نے اس شراکت داری کو نئی سمت دی ہے۔ بحر ہند کے اہم سمندری پڑوسی بھارت اور انڈونیشیا نے 2018 میں ہند-بحرالکاہل خطے میں مشترکہ سمندری وژن اختیار کیا تھا۔ آئی ایف سی-آئی او آر میں انڈونیشیا کے رابطہ افسر کی تعیناتی سے میری ٹائم ڈومین آگاہی کو مزید تقویت ملے گی۔ بھارت، این ڈی اے اور ڈی ایس ایس سی میں انڈونیشیائی کیڈٹس اور افسران کی تربیت کے لیے مزید مواقع بھی فراہم کرے گا۔
تجارت اور سرمایہ کاری کے ذریعے ترقی کو فروغ
اس دورے کا ایک اہم مقصد دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ بھی ہے۔ وکست بھارت 2047 اور ایماس (گولڈن) انڈونیشیا 2045 کے ترقیاتی وژن کو ایک دوسرے کا معاون قرار دیا جا رہا ہے۔ انڈونیشیا، آسیان خطے میں بھارت کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن چکا ہے، جبکہ 2025-26 کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 24.78 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ اس وقت 130 سے زائد بھارتی کمپنیاں انڈونیشیا میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ بھارت، انڈونیشیا کی غذائی تحفظ کی پالیسیوں میں بھی تعاون بڑھا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں 100 ٹن اعلیٰ معیار کے ڈی ڈبلیو آر-162 گیہوں کے بیج فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان پائیدار زرعی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔ انڈونیشیا دنیا کے اہم معدنی وسائل رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔ دنیا کے تقریباً 21 فیصد نکل کے ذخائر انڈونیشیا میں موجود ہیں، جبکہ یہ تانبے، باکسائٹ اور ٹِن کی پیداوار میں بھی عالمی سطح پر نمایاں مقام رکھتا ہے۔ توقع ہے کہ اس دورے کے دوران اس شعبے میں تعاون مزید مستحکم ہوگا۔
ڈیجیٹل رابطے اور ترقیاتی تجربات کا تبادلہ
انڈونیشیا، بھارت کے عوامی تقسیم کے نظام، چاول کی فورٹیفکیشن، کھاد سبسڈی اصلاحات اور ایگری اسٹیک جیسے منصوبوں میں دلچسپی رکھتا ہے اور اس حوالے سے کئی سرکاری وفود بھارت کا دورہ کر چکے ہیں۔ انڈونیشیا کا فری نیوٹریشس میلز پروگرام بھی بھارت کے پی ایم پوشن (مڈ ڈے میل) پروگرام سے متاثر ہے، جبکہ ریڈ اینڈ وائٹ ولیج کوآپریٹوز منصوبے کے تحت دیہی معیشت کو مضبوط بنانے اور سستی ادویات کی فراہمی پر کام کیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں بھارت کی جن اوشدھی اسکیم کے تحت معیاری اور کم قیمت ادویات کی فراہمی پر بھی غور جاری ہے۔ اسی طرح بھارت کے یو پی آئی اور انڈونیشیا کے کیو آر آئی ایس ڈیجیٹل ادائیگی نظام کے درمیان رابطے کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں، جس سے سیاحت، تجارت اور عوامی روابط کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔ بھارت اور انڈونیشیا کے درمیان ہزاروں برس پرانے تہذیبی، مذہبی اور تجارتی تعلقات موجود ہیں۔ اپنے دورے کے دوران وزیراعظم نریندر مودی اور صدر پربوو انڈونیشیا میں واقع بھگوان شیو کے نام سے منسوب مشہور پرمبانن مندر کا بھی دورہ کریں گے۔ اس کے علاوہ بھارت، 2027 میں گرو دیو رویندرناتھ ٹیگور کے انڈونیشیا کے تاریخی دورے کی صد سالہ تقریبات بھی منائے گا، جو دونوں ممالک کے گہرے ثقافتی تعلقات کی ایک اہم علامت سمجھی جاتی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



