PM Modi Concludes Indonesia Visit: وزیر اعظم مودی کا انڈونیشیا دورہ مکمل، 20 دوطرفہ معاہدوں کے بعد آسٹریلیا روانہ، صدر پرابوو نے کیا رخصت
وزیر اعظم نریندر مودی انڈونیشیا کا تین روزہ کامیاب دورہ مکمل کرنے کے بعد آسٹریلیا روانہ ہو گئے ہیں۔ انہیں رخصت کرنے کے لیے خود انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو ہوائی اڈے پہنچے۔ اس دورے کے دوران دفاع، براہموس میزائل، بحری سلامتی، ڈیجیٹل ادائیگیوں سمیت مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان 20 دوطرفہ معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔
PM Modi’s Indonesia visit: وزیراعظم مودی کے انڈونیشیا دورے میں 20 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط، متعدد شعبوں میں بھارت-انڈونیشیا تعاون کو نئی وسعت
وزیراعظم نریندر مودی اور انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو نے ملاقات کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، سمندری تعاون، توانائی، صحت، ادویات، خلائی تحقیق، نایاب معدنیات، سیاحت، ثقافت اور عوامی روابط سمیت جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے تمام پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا۔
Kuch Kuch Hota Hai Song: وزیراعظم مودی نے انڈونیشیا میں ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ گانے کی مقبولیت کو کیا یاد، صدر پرابوو سبیانتو کو کہا بھارت کا سچا دوست
وزیراعظم نے انڈونیشیا میں مقیم بھارتی برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بالی ووڈ کی مشہور فلم ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ کا گیت انڈونیشیا میں بے حد مقبول ہے، لیکن جب بھارت اور انڈونیشیا مل کر آگے بڑھتے ہیں تو صرف ’’کچھ کچھ‘‘ نہیں بلکہ ’’بہت کچھ‘‘ ہوتا ہے۔
Indian diaspora in Jakarta: جکارتہ ایئرپورٹ پر بھارتی برادری نے وزیراعظم مودی کا کیا پُرجوش استقبال، وزیراعظم کے دورے سے بھارت-انڈونیشیا تعلقات میں نئی پیش رفت کا امکان
انڈونیشیا آسیان خطے میں بھارت کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت مالی سال 2025-26 میں 24.78 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ 130 سے زائد بھارتی کمپنیاں انڈونیشیا کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔
PM Indonesia Visit: ’’میں جکارتہ پہنچ گیا ہوں، ایئرپورٹ پر صدر پربوو سوبیانتو کے استقبال نے دل کو چھولیا‘‘ وزیراعظم مودی کا ایکس پر جذباتی پوسٹ
وزیر اعظم مودی کا یہ تین روزہ سرکاری دورہ دونوں ممالک کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لینے اور اسے مزید مستحکم کرنے کے مقصد سے کیا جا رہا ہے۔ انڈونیشیا آسیان خطے میں بھارت کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 24.78 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ 130 سے زیادہ بھارتی کمپنیاں انڈونیشیا کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔
PM Modi arrives in Indonesia: وزیراعظم نریندر مودی انڈونیشیا پہنچے، صدر پربوو سوبیانتو نے ہوائی اڈے پر کیا استقبال، جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر ہوگا زور
انڈونیشیا کے دورے کے بعد وزیراعظم نریندر مودی آسٹریلیا اور پھر نیوزی لینڈ کا بھی دورہ کریں گے۔ بھارت اور انڈونیشیا کے درمیان تقریباً دو ہزار برس پرانے تہذیبی اور تجارتی تعلقات قائم ہیں۔ 1991 میں بھارت کی ’’لک ایسٹ پالیسی‘‘ اختیار کیے جانے کے بعد سیاسی، دفاعی، سلامتی، تجارتی اور ثقافتی شعبوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں مسلسل وسعت آئی ہے۔
Indonesia offers grand welcome: انڈونیشیا میں وزیراعظم مودی کا شاندار استقبال، لڑاکا طیاروں نے فضائی حدود میں وزیراعظم کے طیارے کو دیا اعزازی حصار
یہ وزیر اعظم مودی کے تین ملکی دورے کا پہلا مرحلہ ہے، جس کے بعد وہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا بھی دورہ کریں گے۔ انڈونیشیا کے صدر پربوو سوبیانتو نے وزیراعظم کا خیرمقدم کیا۔ اس دورے میں دفاع، تجارت، سمندری تعاون اور جامع اسٹریٹجک شراکت داری پر گفتگو کی توقع ہے۔
PM Modi’s Indonesia Visit: وزیراعظم نریندر مودی کے انڈونیشیا دورے سے دفاع، تجارت اور سمندری تعاون کو ملے گی نئی رفتار، سرمایہ کاری، معدنیات، ڈیجیٹل رابطے اور ثقافتی تعلقات کے فروغ پر ہوگی خصوصی توجہ
دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سلامتی کے شعبے میں تعاون گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ برہموس میزائل کی فروخت سمیت اعلیٰ سطحی دوروں، مشترکہ فوجی مشقوں اور دفاعی صنعت میں تعاون نے اس شراکت داری کو نئی سمت دی ہے۔ بحر ہند کے اہم سمندری پڑوسی بھارت اور انڈونیشیا نے 2018 میں ہند-بحرالکاہل خطے میں مشترکہ سمندری وژن اختیار کیا تھا۔ آئی ایف سی-آئی او آر میں انڈونیشیا کے رابطہ افسر کی تعیناتی سے میری ٹائم ڈومین آگاہی کو مزید تقویت ملے گی۔
Act East Policy in Action: ’ایکٹ ایسٹ پالیسی‘ کو ملے گی تقویت، وزیراعظم مودی 8 جولائی سے انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے تین ملکی دورے پر ہوں گے روانہ
وزیراعظم مودی 10 جولائی کو میلبورن میں منعقد ہونے والے تیسرے بھارت۔آسٹریلیا سالانہ سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق، اجلاس میں سائبر سکیورٹی، سپلائی چین کی مضبوطی، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔





