Bharat Express DD Free Dish

economic cooperation

پیوش گوئل نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے وژن کے مطابق بھارت برکس خاندان کے تمام رکن ممالک کے ساتھ اپنی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت صرف مذاکرات تک محدود نہیں رہنا چاہتا بلکہ ان مباحث کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے سرگرم ہے، تاکہ تمام رکن ممالک کی مشترکہ ترقی، خوشحالی اور صنعتی پیش رفت کو نئی رفتار مل سکے۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ یہ دونوں معاہدے اعلیٰ سطحی سفارتی عزائم کو عوام کے لیے حقیقی معاشی مواقع میں تبدیل کریں گے اور بھارت کے کسانوں، کاروباری افراد، چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعت کاروں (ایم ایس ایم ایز) اور ہنرمند افرادی قوت کے لیے نئی راہیں کھولیں گے۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور آسٹریلیا کے تعلقات میں کرکٹ ایک سفارتی زبان کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے برسوں میں دونوں ممالک اولمپک اور دولتِ مشترکہ کھیلوں جیسے بڑے عالمی مقابلوں کی میزبانی کریں گے، جس سے نہ صرف کھیلوں کے میدان میں تعاون بڑھے گا بلکہ اسپورٹس انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی حمایت کی اور بین الاقوامی قانون کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور آمدورفت کی آزادی برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ 

دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سلامتی کے شعبے میں تعاون گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ برہموس میزائل کی فروخت سمیت اعلیٰ سطحی دوروں، مشترکہ فوجی مشقوں اور دفاعی صنعت میں تعاون نے اس شراکت داری کو نئی سمت دی ہے۔ بحر ہند کے اہم سمندری پڑوسی بھارت اور انڈونیشیا نے 2018 میں ہند-بحرالکاہل خطے میں مشترکہ سمندری وژن اختیار کیا تھا۔ آئی ایف سی-آئی او آر میں انڈونیشیا کے رابطہ افسر کی تعیناتی سے میری ٹائم ڈومین آگاہی کو مزید تقویت ملے گی۔

سفارتی ذرائع کے مطابق، اجلاس میں سرمایہ کاری، اختراع، سیمی کنڈکٹرز، اہم معدنیات، اقتصادی سلامتی، دفاعی ٹیکنالوجی، بحری سلامتی، مصنوعی ذہانت، دواسازی، بیٹری ٹیکنالوجی، توانائی کے شعبے، اوڈیشہ میں گرین امونیا منصوبے، بایو گیس اور POWERR Asia کے تحت علاقائی تعاون جیسے موضوعات پر پیش رفت متوقع ہے۔

جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ دونوں ممالک نے مستقبل میں اقتصادی، ثقافتی اور سماجی شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے اور باہمی تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور جنوبی کوریا اپنے تعلقات کو ایک نئے مرحلے میں داخل کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری مزید مضبوط ہوسکے۔

سلوواکیہ کی آزادی کے بعد کسی بھارتی وزیراعظم کا یہ پہلا دورہ ہے۔ اس دورے میں تجارت، سرمایہ کاری، اختراع اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے تین برسوں میں انہیں کئی بار جارجیا میلونی سے ملاقات کا موقع ملا، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد اور تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میلونی کی قیادت میں بھارت اور اٹلی کے تعلقات کو نئی رفتار، نئی سمت اور نیا اعتماد ملا ہے۔

پی ایچ ڈی سی سی آئی کے جنرل سکریٹری اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر رنجیت مہتا نے کہا کہ اس دورے کے نتائج بھارت کی ’’ایکٹ ایسٹ پالیسی‘‘ کو مزید مضبوط کریں گے، کیونکہ اس سے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ تزویراتی تعاون میں توسیع ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ویتنام کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون رابطہ کاری، تجارتی استحکام اور اہم شعبوں میں طویل مدتی صنعتی شراکت داری کو تقویت دے گا۔