Bharat Express DD Free Dish

India Indonesia

مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی حمایت کی اور بین الاقوامی قانون کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور آمدورفت کی آزادی برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ 

وزیر اعظم نریندر مودی انڈونیشیا کا کامیاب دورہ مکمل کرنے کے بعد آسٹریلیا روانہ ہو گئے۔ روانگی کے وقت انہیں خصوصی اعزاز کے طور پر ایک یا دو نہیں بلکہ پانچ فائٹر جیٹس نے فضائی اسکورٹ فراہم کی۔

وزیر اعظم نریندر مودی انڈونیشیا کا تین روزہ کامیاب دورہ مکمل کرنے کے بعد آسٹریلیا روانہ ہو گئے ہیں۔ انہیں رخصت کرنے کے لیے خود انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو ہوائی اڈے پہنچے۔ اس دورے کے دوران دفاع، براہموس میزائل، بحری سلامتی، ڈیجیٹل ادائیگیوں سمیت مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان 20 دوطرفہ معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت توسیع پسندی نہیں بلکہ ترقی کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے اور ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘ کے اصول پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ نئی دہلی اور جکارتہ کے درمیان ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ ہے، لیکن دونوں ممالک کو جدا کرنے والا سمندر درحقیقت انہیں جوڑنے والا ایک مضبوط پل ہے، جو مستقبل میں بھی ان کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور انڈونیشیا پائیدار زراعت اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک دوسرے کے بہترین تجربات سے فائدہ اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی ٹیکنالوجی کی صدی ہے اور دونوں ممالک کے نوجوان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں غیر معمولی دلچسپی رکھتے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اعلان کیا کہ بھارت کے ممتاز تعلیمی ادارے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) بنگلورو کا کیمپس انڈونیشیا میں قائم کیا جائے گا، جس سے پورے آسیان خطے کے نوجوان مستفید ہوں گے۔

انڈونیشیائی صدر نے بھارت کے انتخابی نظام اور جمہوری عمل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک بھارت کے الیکشن کمیشن سے بہت کچھ سیکھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ارب چالیس کروڑ سے زائد آبادی، مختلف نسلوں، زبانوں اور ثقافتوں کے باوجود بھارت میں پرامن طریقے سے اقتدار کی منتقلی ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ صدر سوبیانتو نے کہا کہ وہ بھارت کی اس کامیاب جمہوری روایت اور اس کی نمایاں کامیابیوں کا مسلسل مطالعہ کر رہے ہیں اور ان سے رہنمائی حاصل کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نریندر مودی اور انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو نے ملاقات کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، سمندری تعاون، توانائی، صحت، ادویات، خلائی تحقیق، نایاب معدنیات، سیاحت، ثقافت اور عوامی روابط سمیت جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے تمام پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا۔

مشترکہ بیان کے مطابق سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ دونوں ممالک نے خلائی تحقیق میں جاری شراکت داری کا جائزہ لیا اور پرامن مقاصد کے لیے خلا کے استعمال سے متعلق اپنے معاہدے میں توسیع کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت اور انڈونیشیا صدیوں پرانے تہذیبی، ثقافتی اور عوامی روابط سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے، آزاد اور ضابطہ پر مبنی ہند-بحرالکاہل کے فروغ اور باہمی تعاون کے نئے باب کے آغاز کے عزم کا اعادہ کیا۔