Bharat Express DD Free Dish

India Indonesia

وزیراعظم نے انڈونیشیا میں مقیم بھارتی برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بالی ووڈ کی مشہور فلم ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ کا گیت انڈونیشیا میں بے حد مقبول ہے، لیکن جب بھارت اور انڈونیشیا مل کر آگے بڑھتے ہیں تو صرف ’’کچھ کچھ‘‘ نہیں بلکہ ’’بہت کچھ‘‘ ہوتا ہے۔

وزیراعظم مودی نے ایکس پر لکھا: ’’میں جمہوریہ انڈونیشیا کے اعلیٰ ترین اعزاز ’بنتانگ آدی پورنا‘ کو انتہائی عاجزی کے ساتھ قبول کرتا ہوں۔ یہ اعزاز ہندوستان کے عوام کا ہے۔ یہ انڈونیشیا کے عوام کی محبت اور خیرسگالی کا مظہر ہے اور ہمارے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور گہرے تعلقات کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔

وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان قدیم سمندری روابط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور انڈونیشیا کے لیے سمندر کبھی فاصلے کی علامت نہیں رہا بلکہ ہمیشہ دونوں قوموں کو جوڑنے والا ایک مضبوط پل ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ہندوستان اور انڈونیشیا کے لیے سمندر نے ہمیشہ ہمیں قریب لانے کا کام کیا ہے اور آئندہ بھی ہمارا مشترکہ مستقبل اسی سے وابستہ ہے۔‘‘ 

اس سے قبل انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے وزیراعظم مودی کو ملک کے سب سے بڑے شہری و عسکری اعزاز سے نوازنے کا اعلان کیا۔ 1959 میں قائم کیا گیا ’بنتانگ آدی پورنا‘ان شخصیات کو دیا جاتا ہے جنہوں نے غیر معمولی خدمات انجام دی ہوں۔ اس اعزاز کے ساتھ وزیراعظم مودی کے نام دنیا کے مختلف ممالک کی جانب سے دیے جانے والے اعلیٰ ترین اعزازات کی فہرست میں ایک اور اہم اضافہ ہو گیا ہے

انڈونیشیا آسیان خطے میں بھارت کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت مالی سال 2025-26 میں 24.78 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ 130 سے زائد بھارتی کمپنیاں انڈونیشیا کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔

وزیر اعظم مودی کا یہ تین روزہ سرکاری دورہ دونوں ممالک کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لینے اور اسے مزید مستحکم کرنے کے مقصد سے کیا جا رہا ہے۔ انڈونیشیا آسیان خطے میں بھارت کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 24.78 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ 130 سے زیادہ بھارتی کمپنیاں انڈونیشیا کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔

انڈونیشیا کے دورے کے بعد وزیراعظم نریندر مودی آسٹریلیا اور پھر نیوزی لینڈ کا بھی دورہ کریں گے۔ بھارت اور انڈونیشیا کے درمیان تقریباً دو ہزار برس پرانے تہذیبی اور تجارتی تعلقات قائم ہیں۔ 1991 میں بھارت کی ’’لک ایسٹ پالیسی‘‘ اختیار کیے جانے کے بعد سیاسی، دفاعی، سلامتی، تجارتی اور ثقافتی شعبوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں مسلسل وسعت آئی ہے۔

یہ وزیر اعظم مودی کے تین ملکی دورے کا پہلا مرحلہ ہے، جس کے بعد وہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا بھی دورہ کریں گے۔ انڈونیشیا کے صدر پربوو سوبیانتو نے وزیراعظم کا خیرمقدم کیا۔ اس دورے میں دفاع، تجارت، سمندری تعاون اور جامع اسٹریٹجک شراکت داری پر گفتگو کی توقع ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سلامتی کے شعبے میں تعاون گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ برہموس میزائل کی فروخت سمیت اعلیٰ سطحی دوروں، مشترکہ فوجی مشقوں اور دفاعی صنعت میں تعاون نے اس شراکت داری کو نئی سمت دی ہے۔ بحر ہند کے اہم سمندری پڑوسی بھارت اور انڈونیشیا نے 2018 میں ہند-بحرالکاہل خطے میں مشترکہ سمندری وژن اختیار کیا تھا۔ آئی ایف سی-آئی او آر میں انڈونیشیا کے رابطہ افسر کی تعیناتی سے میری ٹائم ڈومین آگاہی کو مزید تقویت ملے گی۔