نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی کی دعوت پر بیلجیم کے وزیر اعظم بارٹ ڈی ویور 2 سے 4 ستمبر تک بھارت کے سرکاری دورے پر ہیں۔ ان کے ہمراہ بیلجیم کے وزیر دفاع و خارجہ تجارت تھیو فرانکن کے علاوہ اعلیٰ حکام اور کاروباری لیڈروں کا ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی بھارت آیا ہے۔ فروری 2025 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد ڈی ویور کا یہ پہلا بھارت دورہ ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور بیلجیم کے وزیر اعظم بارٹ ڈی ویور کے درمیان دوطرفہ ملاقات ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے پہلی عالمی جنگ کے دوران فلینڈرز فیلڈز میں 9 ہزار سے زائد بھارتی فوجیوں کی قربانیوں کو یاد کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ بیلجیم 1947 میں بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے والے اولین یورپی ممالک میں شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات مشترکہ جمہوری اقدار، باہمی اعتماد، اقتصادی تکمیل اور عوامی روابط کی مضبوط بنیاد پر مسلسل آگے بڑھے ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کی حمایت
دونوں وزرائے اعظم نے اقوام متحدہ کے چارٹر کو مرکز میں رکھتے ہوئے مؤثر اور اصلاح شدہ کثیر فریقی نظام کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فوری اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ بیلجیم نے اصلاح شدہ اور توسیع شدہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے لیے بھارت کی امیدواری کی حمایت ایک بار پھر ظاہر کی۔ دونوں لیڈروں نے بھارت-یورپی یونین اسٹریٹجک شراکت داری کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا۔ انہوں نے بھارت اور یورپی یونین کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سرمایہ کاری تحفظ معاہدے اور جغرافیائی اشاریے سے متعلق معاہدے پر مذاکرات جلد مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں لیڈروں نے بھارت-یورپی یونین تجارت و ٹیکنالوجی کونسل کے تحت ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کیا، جس میں جولائی 2026 میں برسلز میں منعقدہ وزارتی اجلاس بھی شامل ہے۔ دونوں ممالک نے 2030 کے لیے مشترکہ بھارت-یورپی یونین جامع اسٹریٹجک ایجنڈے کی بھی حمایت کی۔
5 سال میں دوطرفہ تجارت دوگنی کرنے کا ہدف
دنیا کی 24ویں بڑی معیشت بیلجیم اور آنے والے برسوں میں 10 ٹریلین امریکی ڈالر کی معیشت بننے کے بھارت کے ہدف کے پیش نظر دونوں لیڈروں نے باہمی طور پر فائدہ مند اقتصادی شراکت داری کے وسیع امکانات کو تسلیم کیا۔ دونوں وزرائے اعظم نے تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس دوران انہوں نے دوطرفہ اقتصادی تعلقات میں مسلسل توسیع اور تجارت کے شعبوں میں بڑھتے تنوع کا خیرمقدم کیا۔ دونوں ممالک نے اگلے 5 برسوں میں دوطرفہ تجارت کو دوگنا کرنے کے مقصد سے اہم شعبوں میں تعاون مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا۔
دونوں لیڈروں نے مارچ 2025 میں شہزادی ایسٹرڈ کی قیادت میں بھارت آنے والے بیلجیم کے کامیاب اقتصادی مشن کو بھی اہم قرار دیا۔ اس مشن کے ذریعے کاروباری اداروں اور مختلف اداروں کے درمیان نئی شراکت داری کو فروغ ملا۔ دونوں ممالک نے لائف سائنسز، فارماسیوٹیکلز، صحت، توانائی، قابل تجدید توانائی، دفاع، ایرو اسپیس، خلائی شعبے، لاجسٹکس، ٹرانسپورٹ، بندرگاہوں، کلین ٹیک، گرین انجینئرنگ، کیمیکل، جدید مواد، مینوفیکچرنگ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور اختراع سمیت کئی شعبوں میں تعاون بڑھانے کا عزم ظاہر کیا۔ سیمی کنڈکٹرز، کیمیکل، فارماسیوٹیکلز، دفاعی صنعتی تعاون، اہم معدنیات کی ریفائننگ اور ری سائیکلنگ، پائیدار صنعتوں اور جوہری توانائی کے شعبوں میں بھی تعاون کے نئے امکانات تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
ممبئی اور سورت سے اینٹورپ کے ہیرے کے کاروبار پر زور
دونوں لیڈروں نے اینٹورپ کو ممبئی اور سورت سے جوڑنے والی ہیرے کی تجارت کی دیرینہ اہمیت کو بھی تسلیم کیا۔ انہوں نے اقتصادی روابط اور مشترکہ ترقی کے نئے راستے تلاش کرتے ہوئے اس تاریخی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک نے سمندری اور بندرگاہی تعاون کو اسٹریٹجک اہمیت کا حامل قرار دیا۔ بندرگاہوں کی ترقی، لاجسٹکس، کنیکٹوٹی، ڈریجنگ اور سمندر میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات کا خیرمقدم کیا گیا۔
یوکرین اور مغربی ایشیا کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال
دونوں وزرائے اعظم نے یوکرین اور مغربی ایشیا سمیت بڑے بین الاقوامی معاملات پر بھی اپنے خیالات کا تبادلہ کیا۔ یوکرین جنگ کے حوالے سے دونوں ممالک نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے اصولوں کے مطابق بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے جامع، منصفانہ اور پائیدار امن کے قیام کی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔ مغربی ایشیا کی صورتحال پر دونوں لیڈروں نے خطے میں حالیہ تشویشناک پیش رفت پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


