Bharat Express DD Free Dish

India economy

وزیراعظم نے گجرات، تمل ناڈو، مہاراشٹر اور راجستھان جیسی ریاستوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ علاقے قابلِ تجدید توانائی کے میدان میں نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر گجرات کے علاقوں کَچھ، پٹن اور بناس کانٹھا کا ذکر کیا، جہاں کبھی بنجر زمینیں تھیں، مگر آج وہاں بڑے بڑے قابلِ تجدید توانائی پارکس قائم ہو چکے ہیں۔ ان منصوبوں سے مقامی نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع مل رہے ہیں اور نئی مہارتیں بھی فروغ پا رہی ہیں۔

مالی سال 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں کمپنی کی آمدنی 15 فیصد بڑھ کر 7,588 کروڑ روپے ہو گئی۔ EBITDA میں 4.9 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 2,372 کروڑ روپے رہا، جبکہ بعد از ٹیکس منافع (PAT) 723 کروڑ روپے تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 714 کروڑ روپے تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی بات چیت جاری ہے اور اس میں کوئی تعطل نہیں آیا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ جاری مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے اور باہمی مفاد پر مبنی معاہدے کی راہ ہموار کریں گے۔

اس فیصلے کے نتیجے میں مرکزی حکومت کے خزانے پر سالانہ تقریباً 6,791 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ تاہم حکومت کا ماننا ہے کہ یہ قدم عوامی فلاح اور معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے۔

وزارت کے مطابق یہ ذخیرہ عوامی تقسیم کے نظام کی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بھی مکمل طور پر کافی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت خوراک کی دستیابی پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر فوری مداخلت کرے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انڈونیشیا، ملائیشیا، روس، یوکرین، ارجنٹینا اور برازیل جیسے ممالک سے درآمدات مسلسل جاری ہیں۔ 

ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے کہا کہ سماجوادی پارٹی کے دورِ حکومت میں اتر پردیش بدامنی اور افراتفری کی علامت بن گیا تھا، جہاں تاجر اور سرمایہ کار خوف کے ماحول میں کام کرنے پر مجبور تھے۔ بدعنوانی اور خاندانی سیاست اس دور کی پہچان بن گئی تھی۔

مالی سال 2025-26 کے پہلے دس مہینوں میں 1.98 لاکھ نئے بزنس رجسٹر، اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام کو ملی نئی رفتار۔ حکومت کے مطابق اسٹارٹ اپ انڈیا، کریڈٹ گارنٹی اسکیم اور ڈیجیٹل کریڈٹ اسسمنٹ ماڈل جیسے اقدامات ایک شفاف اور ٹیکنالوجی سے آراستہ سرمایہ کار دوست ماحول کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

بلیک راک کے سی ای اونے ہندوستان کو طویل مدتی دولت کی تخلیق کا سب سے بڑا موقع قراردیا۔ مکیش امبانی نے کہا کہ ملک کی گروتھ کا فائدہ اٹھانے کیلئے ینگ انڈیا سیورز سے انویسٹرز بنے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اے آئی تعلیم اورصحت کی دیکھ بھال میں بڑی تبدیلیاں لائے گا۔

ژاں کلود تریشے کے مطابق امریکی محصولات کے اثرات سہنے کی صلاحیت بھارت میں موجود، مگر 8 فیصد ترقی اور 2047 کے اہداف کے لیے ساختی اصلاحات بھی ضروری ہے۔

وزیرداخلہ نے بتایا کہ ’میک ان انڈیا‘ کے تحت متعدد پالیسی تبدیلیوں کے ذریعے بھارت کو مینوفیکچرنگ ہب بنایا گیا۔ میک ان انڈیا 2 کے تحت اگلے 25 سال میں عالمی معیشت کے اہم شعبوں پر توجہ دی جا رہی ہے۔ اسٹارٹ اپس کے معاملے میں بھارت نے گزشتہ 10 سال میں دنیا میں 26 ویں سے تیسری پوزیشن حاصل کی۔