Bharat Express DD Free Dish

Prime Minister Narendra Modi: آج ٹیکنالوجی، ڈیٹا، علم اور جدت طاقت کے نئے ذرائع، دوسروں کو بااختیار بنانا نئے دور کی سب سے بڑی قوت- وزیر اعظم مودی

وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’مصنوعی ذہانت (اے آئی) مختلف شعبوں میں ہمارے کام کرنے کے طریقوں کو بدل رہی ہے۔ بڑھتی عمر سے متعلق چیلنجز بھی بڑھ رہے ہیں۔ اعتماد دنیا کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کئی بین الاقوامی گروپ موجود ہیں، لیکن بھارت نے انٹرنیشنل سولر الائنس، بگ کیٹ الائنس، بایو فیول الائنس، مشن لائف اور آئی ایم ای سی جیسے اقدامات کیے ہیں، جو سبھی کے لیے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو ’پاور ٹو ایمپاور‘ یعنی دوسروں کو بااختیار بنانے کی طاقت کے تصور کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں ٹیکنالوجی، ڈیٹا، علم اور جدت ہی طاقت کے نئے ذرائع بن چکے ہیں، لیکن ان کی اصل اہمیت اس بات میں ہے کہ انہیں کس مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔بلومبرگ نیو اکانومی فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس سال فورم کا موضوع ابھرتی ہوئی طاقتوں پر مبنی ہے اور اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں دنیا بڑی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے۔ آج ٹیکنالوجی، ڈیٹا، علم اور جدت طاقت کے نئے ذرائع بن چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اصل سوال یہ نہیں ہے کہ طاقت کس کے پاس ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کا استعمال کس طرح کیا جارہا ہے۔ کیا ٹیکنالوجی کا استعمال صرف چند لوگوں کو آگے بڑھانے کے لیے ہوگا یا اس کے ذریعے کروڑوں لوگوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے؟وزیر اعظم نے کہا کہ یہیں سے ’پاور ٹو ایمپاور‘ یعنی دوسروں کو بااختیار بنانے کا تصور جنم لیتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’کنٹرول کرنے کی طاقت سے آگے بڑھ کر بااختیار بنانے کی طاقت ہے، مقابلے کی طاقت سے آگے تعاون کی طاقت ہے اور صرف خود کامیاب ہونے سے آگے دوسروں کو کامیاب بنانے کی طاقت ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں طاقت کی حقیقی قدر کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔

بھارت میں جمہوریت اور ڈیجیٹل طاقت کی اہمیت

وزیر اعظم مودی نے بھارت کو ’جمہوریت کی ماں‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں 100 سے زیادہ زبانیں ہیں، تقریباً 80,000 رجسٹرڈ اخبارات اور اشاعتی ادارے ہیں، 1,000 سے زیادہ سیٹلائٹ ٹی وی چینل ہیں، جبکہ یوٹیوب اور انسٹاگرام کے صارفین کی تعداد 50 کروڑ سے زیادہ ہے۔انہوں نے کہا، ’’بھارت میں مختلف مسائل پر کھل کر بحث ہوتی ہے، لوگ الگ الگ خیالات پر گفتگو کرتے ہیں اور اس عمل میں ڈیجیٹل طاقت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔‘‘وزیر اعظم نے کہا کہ 12 سے 13 سال پہلے موبائل انٹرنیٹ تک رسائی بھی اپنے آپ میں ایک طاقت تھی، کیونکہ جس شخص کے پاس انٹرنیٹ ہوتا تھا، اس کے پاس معلومات، علم اور مواقع تک رسائی بھی ہوتی تھی۔انہوں نے کہا کہ 2014 میں حکومت بننے کے بعد بھارت نے موبائل ڈیٹا کو سستا اور آسانی سے دستیاب بنانے پر خصوصی توجہ دی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج گاؤں کا ایک چھوٹا دکاندار بھی ڈیجیٹل ذرائع سے اپنے گاہکوں تک پہنچ سکتا ہے۔مودی نے کہا کہ بھارت میں رابطے کی سہولتوں نے صرف لوگوں کو ایک دوسرے سے نہیں جوڑا، بلکہ انہیں مواقع سے بھی منسلک کیا ہے۔ یہ ’پاور ٹو ایمپاور‘ کی سب سے بڑی مثال ہے، جہاں ٹیکنالوجی کو لوگوں کو بااختیار بنانے اور ان کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے استعمال کیا گیا۔

مصنوعی ذہانت اور عالمی تعاون پر زور

وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’مصنوعی ذہانت (اے آئی) مختلف شعبوں میں ہمارے کام کرنے کے طریقوں کو بدل رہی ہے۔ بڑھتی عمر سے متعلق چیلنجز بھی بڑھ رہے ہیں۔ اعتماد دنیا کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کئی بین الاقوامی گروپ موجود ہیں، لیکن بھارت نے انٹرنیشنل سولر الائنس، بگ کیٹ الائنس، بایو فیول الائنس، مشن لائف اور آئی ایم ای سی جیسے اقدامات کیے ہیں، جو سبھی کے لیے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا، ’’ایک سورج، ایک دنیا اور ایک نیٹ ورک؛ ایک زمین، ایک خاندان اور ایک مستقبل۔ ہم دنیا کو جوڑنے اور دوسروں کو بااختیار بنانے کے لیے طاقت کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں۔‘‘

اصلاحات بھارت کا پختہ یقین: مودی

وزیر اعظم نے مزید کہا، ’’ہم نے جی ایس ٹی اور دیوالیہ پن جیسے معاملات سے متعلق کئی قوانین میں بعض جرائم کو جرم کے زمرے سے باہر کیا ہے۔ ہماری اصلاحات کی رفتار تیز ہے۔ ہمارے لیے اصلاحات کوئی مجبوری نہیں، بلکہ ایک پختہ یقین ہے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read