Bharat Express DD Free Dish

Technology

لداخ میں کھیلوں کے امکانات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہاں کے نوجوانوں نے آئس ہاکی، سرمائی کھیلوں اور کوہ پیمائی جیسے شعبوں میں اپنی الگ پہچان بنائی ہے۔انہوں نے کہا کہ لداخ میں نئی کھیل پالیسی کے ذریعے باصلاحیت کھلاڑیوں کو آگے بڑھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ حکومت چاہتی ہے کہ نوجوانوں کو بہتر تربیت اور جدید سہولتیں فراہم ہوں، تاکہ وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر نئی کامیابیاں حاصل کر سکیں۔

وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’مصنوعی ذہانت (اے آئی) مختلف شعبوں میں ہمارے کام کرنے کے طریقوں کو بدل رہی ہے۔ بڑھتی عمر سے متعلق چیلنجز بھی بڑھ رہے ہیں۔ اعتماد دنیا کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کئی بین الاقوامی گروپ موجود ہیں، لیکن بھارت نے انٹرنیشنل سولر الائنس، بگ کیٹ الائنس، بایو فیول الائنس، مشن لائف اور آئی ایم ای سی جیسے اقدامات کیے ہیں، جو سبھی کے لیے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اپریل 2023 میں منظور کیے گئے ’نیشنل کوانٹم مشن‘ کا بھی ذکر کیا۔ اس مشن کے لیے 8 سال کے دوران 6003.65 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ یہ مشن چار اہم شعبوں، کوانٹم کمپیوٹنگ، کوانٹم مواصلات، کوانٹم سینسنگ اور کوانٹم مواد پر مرکوز ہے۔انہوں نے بایو ٹیکنالوجی اور ’بایو ای تھری‘ (معیشت، ماحولیات اور روزگار کے لیے بایو ٹیکنالوجی) پالیسی پر بھی روشنی ڈالی۔

اس حساب سے اگر تقریباً 5 سیکنڈ کی اے آئی ویڈیو تیار کی جائے تو اس کے لیے اتنی بجلی خرچ ہو سکتی ہے جتنی ایک مائیکروویو کو ایک گھنٹے سے زیادہ وقت تک چلانے میں ہوتی ہے۔یعنی چند سیکنڈ کی اے آئی ویڈیو تیار کرنے کے لیے بجلی کی کھپت معمولی نہیں ہے، خاص طور پر جب بڑے پیمانے پر ایسی تصاویر اور ویڈیوز تیار کی جائیں۔

مرکزی حکومت نے حال ہی میں Semicon 2.0 کو منظوری دی ہے، جس کا مقصد ملک میں سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ اور سپلائی چین کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ حکومت کی جانب سے تحقیق، جدت اور چِپ ڈیزائن کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری اور سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

یہ مسئلہ صرف کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں رہا۔ بھارت کے علاوہ برطانیہ، فرانس، برازیل، کینیڈا، میکسیکو، اسپین اور کولمبیا سمیت کئی ممالک سے بھی ایسی شکایات سامنے آئیں۔ مختلف ممالک سے ایک جیسی رپورٹس موصول ہونے سے اشارہ ملا کہ یہ مقامی نیٹ ورک یا کسی مخصوص ڈیوائس کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ واٹس ایپ کے پلیٹ فارم کی سطح پر تکنیکی خرابی ہوسکتی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی آئی آئی ٹی دہلی کے سونی پت کیمپس میں قائم مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے چلنے والی ہائی پرفارمنس سپر کمپیوٹنگ سہولت ’پرم پرگیہ‘ کا بھی باضابطہ افتتاح کریں گے۔ یہ اقدام مصنوعی ذہانت، جدید تحقیق اور اعلیٰ کمپیوٹنگ کے شعبوں میں ہندوستان کی صلاحیت کو مزید مضبوط کرنے کی سمت میں اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

حیدرآباد میں قائم نجی کمپنی اسکائی روٹ ایرو اسپیس نے سری ہری کوٹا کے ستیش دھون اسپیس سینٹر سے اپنے پہلے نجی آربیٹل راکٹ وکرم-1 کو 'مشن آگمن' کے تحت لانچ کیا۔ اس مشن کو بھارت کے کمرشل خلائی شعبے کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے بھارت نے عالمی نجی آربیٹل لانچ مارکیٹ میں اپنی مضبوط موجودگی درج کرائی ہے۔

واضح رہے کہ اسکائی روٹ ایرو اسپیس نے اپنے خلائی سفر کا آغاز نومبر 2022 میں "پرارمبھ" مشن کے تحت وکرم-ایس نامی سب آربیٹل راکٹ کی کامیاب لانچنگ سے کیا تھا، تاہم وکرم-1 مشن اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور اہم تھا کیونکہ اس کا مقصد زمین کے مدار میں سیٹلائٹس کو کامیابی سے پہنچانا تھا۔اسرو کے سابق سائنس دانوں کی قائم کردہ اس بھارتی کمپنی نے اپنی کامیابی سے یہ ثابت کر دیا ہے

نے کہا ’’وکست بھارت کے سفر میں ہمیں مستقبل کی ٹیکنالوجی، اختراع اور صحت کے شعبے پر اعتماد کرنا ہوگا۔ ہمیں ایسے فیصلے کرنے ہوں گے جو آج کے ساتھ ساتھ آنے والی نسلوں کے لیے بھی فائدہ مند ہوں۔ بی جے پی اور این ڈی اے حکومت اسی سمت میں کام کر رہی ہے۔‘‘