MIT Technology Review: اے آئی کی ایک تصویر بنانے میں اتنی بجلی خرچ جتنی مائیکروویو چلانے میں، ویڈیو کے لیے خرچ 700 گنا سے زیادہ
اس حساب سے اگر تقریباً 5 سیکنڈ کی اے آئی ویڈیو تیار کی جائے تو اس کے لیے اتنی بجلی خرچ ہو سکتی ہے جتنی ایک مائیکروویو کو ایک گھنٹے سے زیادہ وقت تک چلانے میں ہوتی ہے۔یعنی چند سیکنڈ کی اے آئی ویڈیو تیار کرنے کے لیے بجلی کی کھپت معمولی نہیں ہے، خاص طور پر جب بڑے پیمانے پر ایسی تصاویر اور ویڈیوز تیار کی جائیں۔
وزیراعظم مودی 17 ستمبر کو کریں گے ‘SEMICON India 2026’ کے پانچویں ایڈیشن کا افتتاح
مرکزی حکومت نے حال ہی میں Semicon 2.0 کو منظوری دی ہے، جس کا مقصد ملک میں سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ اور سپلائی چین کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ حکومت کی جانب سے تحقیق، جدت اور چِپ ڈیزائن کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری اور سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
WhatsApp down: واٹس ایپ میں عالمی سطح پر آئی تکنیکی خرابی، فوٹو اور ویڈیو بھیجنے میں یوز کو ہوئی پریشانی
یہ مسئلہ صرف کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں رہا۔ بھارت کے علاوہ برطانیہ، فرانس، برازیل، کینیڈا، میکسیکو، اسپین اور کولمبیا سمیت کئی ممالک سے بھی ایسی شکایات سامنے آئیں۔ مختلف ممالک سے ایک جیسی رپورٹس موصول ہونے سے اشارہ ملا کہ یہ مقامی نیٹ ورک یا کسی مخصوص ڈیوائس کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ واٹس ایپ کے پلیٹ فارم کی سطح پر تکنیکی خرابی ہوسکتی ہے۔
PM Modi IIT Delhi Convocation: آئی آئی ٹی دہلی کے 57ویں کانووکیشن میں شرکت کریں گے پی ایم مودی، نوجوانوں سے کریں گے بات چیت
وزیر اعظم نریندر مودی آئی آئی ٹی دہلی کے سونی پت کیمپس میں قائم مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے چلنے والی ہائی پرفارمنس سپر کمپیوٹنگ سہولت ’پرم پرگیہ‘ کا بھی باضابطہ افتتاح کریں گے۔ یہ اقدام مصنوعی ذہانت، جدید تحقیق اور اعلیٰ کمپیوٹنگ کے شعبوں میں ہندوستان کی صلاحیت کو مزید مضبوط کرنے کی سمت میں اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
Prime Minister Narendra Modi: وکرم-1 کی لانچنگ سے قبل وزیر اعظم مودی نے اسکائی روٹ ایرو اسپیس کو نیک تمناؤں کا دیا پیغام
حیدرآباد میں قائم نجی کمپنی اسکائی روٹ ایرو اسپیس نے سری ہری کوٹا کے ستیش دھون اسپیس سینٹر سے اپنے پہلے نجی آربیٹل راکٹ وکرم-1 کو 'مشن آگمن' کے تحت لانچ کیا۔ اس مشن کو بھارت کے کمرشل خلائی شعبے کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے بھارت نے عالمی نجی آربیٹل لانچ مارکیٹ میں اپنی مضبوط موجودگی درج کرائی ہے۔
Vikram-1 Launch 2026: خلا کی مدار میں گونجا ’وندے ماترم‘، وکرم-1 کی تاریخی کامیابی پر وزیر اعظم مودی نے سائنس دانوں کو فون کر کے دی مبارکباد
واضح رہے کہ اسکائی روٹ ایرو اسپیس نے اپنے خلائی سفر کا آغاز نومبر 2022 میں "پرارمبھ" مشن کے تحت وکرم-ایس نامی سب آربیٹل راکٹ کی کامیاب لانچنگ سے کیا تھا، تاہم وکرم-1 مشن اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور اہم تھا کیونکہ اس کا مقصد زمین کے مدار میں سیٹلائٹس کو کامیابی سے پہنچانا تھا۔اسرو کے سابق سائنس دانوں کی قائم کردہ اس بھارتی کمپنی نے اپنی کامیابی سے یہ ثابت کر دیا ہے
Journey Towards Viksit Bharat: وکست بھارت کے سفر میں مستقبل کی ٹیکنالوجی، اختراع اور صحت کے شعبے پر انحصار ناگزیر: وزیراعظم مودی
نے کہا ’’وکست بھارت کے سفر میں ہمیں مستقبل کی ٹیکنالوجی، اختراع اور صحت کے شعبے پر اعتماد کرنا ہوگا۔ ہمیں ایسے فیصلے کرنے ہوں گے جو آج کے ساتھ ساتھ آنے والی نسلوں کے لیے بھی فائدہ مند ہوں۔ بی جے پی اور این ڈی اے حکومت اسی سمت میں کام کر رہی ہے۔‘‘
PM Modi’s Vision to Modernize Railways: ہائیڈروجن ٹرین ریلوے کی جدیدکاری میں اہم سنگ میل، پی ایم مودی کے وژن کا حصہ: اشونی ویشنو
مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنو نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی مکمل طور پر ہندوستان میں تیار کی گئی ہے اور اس کے تمام باضابطہ حقوقِ دانش (انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس) بھارت کے پاس ہیں۔ ان کے مطابق مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنایا جائے گا اور اسے دیگر ممالک کو برآمد کرنے کے امکانات بھی موجود ہیں،
Global Semiconductor Hub: سیمی کنڈکٹر کا عالمی مرکز بننے کی راہ پر بھارت، ’سیمی کون 2.0‘ اور موبائل فون مینوفیکچرنگ اسکیم سے 3.6 لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع
آئی ای ایس اے اور سیمی انڈیا کے صدر اشوک چندک نے کہا کہ سیمی کون 2.0 بھارت کے لیے پالیسی سازی سے بڑے پیمانے پر عملی نفاذ کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ آلات پر خرچ 2028 تک تقریباً 230 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے اور بھارت اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے مضبوط پوزیشن میں ہے۔
Semicon 2.0 Scheme: وزیراعظم مودی کی قیادت میں کابینہ نے ’سیمی کون 2.0‘ اسکیم کو کیا منظور، سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ اور چپ ڈیزائن کو ملے گا بڑا فروغ
حکومت کے مطابق اب تک 12 سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ یونٹس کو منظوری دی جا چکی ہے، جن میں 1.64 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری تجویز کی گئی ہے۔ ان منصوبوں میں ایک سلیکون فیب، ایک سلیکون کاربائیڈ فیب، ایک انٹیگریٹڈ گیلیم نائٹرائیڈ مائیکرو ایل ای ڈی ڈسپلے فیب اور نو پیکیجنگ یونٹس شامل ہیں۔





