Bharat Express DD Free Dish

Technology

اس حساب سے اگر تقریباً 5 سیکنڈ کی اے آئی ویڈیو تیار کی جائے تو اس کے لیے اتنی بجلی خرچ ہو سکتی ہے جتنی ایک مائیکروویو کو ایک گھنٹے سے زیادہ وقت تک چلانے میں ہوتی ہے۔یعنی چند سیکنڈ کی اے آئی ویڈیو تیار کرنے کے لیے بجلی کی کھپت معمولی نہیں ہے، خاص طور پر جب بڑے پیمانے پر ایسی تصاویر اور ویڈیوز تیار کی جائیں۔

مرکزی حکومت نے حال ہی میں Semicon 2.0 کو منظوری دی ہے، جس کا مقصد ملک میں سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ اور سپلائی چین کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ حکومت کی جانب سے تحقیق، جدت اور چِپ ڈیزائن کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری اور سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

یہ مسئلہ صرف کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں رہا۔ بھارت کے علاوہ برطانیہ، فرانس، برازیل، کینیڈا، میکسیکو، اسپین اور کولمبیا سمیت کئی ممالک سے بھی ایسی شکایات سامنے آئیں۔ مختلف ممالک سے ایک جیسی رپورٹس موصول ہونے سے اشارہ ملا کہ یہ مقامی نیٹ ورک یا کسی مخصوص ڈیوائس کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ واٹس ایپ کے پلیٹ فارم کی سطح پر تکنیکی خرابی ہوسکتی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی آئی آئی ٹی دہلی کے سونی پت کیمپس میں قائم مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے چلنے والی ہائی پرفارمنس سپر کمپیوٹنگ سہولت ’پرم پرگیہ‘ کا بھی باضابطہ افتتاح کریں گے۔ یہ اقدام مصنوعی ذہانت، جدید تحقیق اور اعلیٰ کمپیوٹنگ کے شعبوں میں ہندوستان کی صلاحیت کو مزید مضبوط کرنے کی سمت میں اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

حیدرآباد میں قائم نجی کمپنی اسکائی روٹ ایرو اسپیس نے سری ہری کوٹا کے ستیش دھون اسپیس سینٹر سے اپنے پہلے نجی آربیٹل راکٹ وکرم-1 کو 'مشن آگمن' کے تحت لانچ کیا۔ اس مشن کو بھارت کے کمرشل خلائی شعبے کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے بھارت نے عالمی نجی آربیٹل لانچ مارکیٹ میں اپنی مضبوط موجودگی درج کرائی ہے۔

واضح رہے کہ اسکائی روٹ ایرو اسپیس نے اپنے خلائی سفر کا آغاز نومبر 2022 میں "پرارمبھ" مشن کے تحت وکرم-ایس نامی سب آربیٹل راکٹ کی کامیاب لانچنگ سے کیا تھا، تاہم وکرم-1 مشن اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور اہم تھا کیونکہ اس کا مقصد زمین کے مدار میں سیٹلائٹس کو کامیابی سے پہنچانا تھا۔اسرو کے سابق سائنس دانوں کی قائم کردہ اس بھارتی کمپنی نے اپنی کامیابی سے یہ ثابت کر دیا ہے

نے کہا ’’وکست بھارت کے سفر میں ہمیں مستقبل کی ٹیکنالوجی، اختراع اور صحت کے شعبے پر اعتماد کرنا ہوگا۔ ہمیں ایسے فیصلے کرنے ہوں گے جو آج کے ساتھ ساتھ آنے والی نسلوں کے لیے بھی فائدہ مند ہوں۔ بی جے پی اور این ڈی اے حکومت اسی سمت میں کام کر رہی ہے۔‘‘

مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنو نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی مکمل طور پر ہندوستان میں تیار کی گئی ہے اور اس کے تمام باضابطہ حقوقِ دانش (انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس) بھارت کے پاس ہیں۔ ان کے مطابق مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنایا جائے گا اور اسے دیگر ممالک کو برآمد کرنے کے امکانات بھی موجود ہیں،

آئی ای ایس اے اور سیمی انڈیا کے صدر اشوک چندک نے کہا کہ سیمی کون 2.0 بھارت کے لیے پالیسی سازی سے بڑے پیمانے پر عملی نفاذ کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ آلات پر خرچ 2028 تک تقریباً 230 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے اور بھارت اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے مضبوط پوزیشن میں ہے۔

حکومت کے مطابق اب تک 12 سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ یونٹس کو منظوری دی جا چکی ہے، جن میں 1.64 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری تجویز کی گئی ہے۔ ان منصوبوں میں ایک سلیکون فیب، ایک سلیکون کاربائیڈ فیب، ایک انٹیگریٹڈ گیلیم نائٹرائیڈ مائیکرو ایل ای ڈی ڈسپلے فیب اور نو پیکیجنگ یونٹس شامل ہیں۔