Bharat Express DD Free Dish

Technology

مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنو نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی مکمل طور پر ہندوستان میں تیار کی گئی ہے اور اس کے تمام باضابطہ حقوقِ دانش (انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس) بھارت کے پاس ہیں۔ ان کے مطابق مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنایا جائے گا اور اسے دیگر ممالک کو برآمد کرنے کے امکانات بھی موجود ہیں،

آئی ای ایس اے اور سیمی انڈیا کے صدر اشوک چندک نے کہا کہ سیمی کون 2.0 بھارت کے لیے پالیسی سازی سے بڑے پیمانے پر عملی نفاذ کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ آلات پر خرچ 2028 تک تقریباً 230 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے اور بھارت اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے مضبوط پوزیشن میں ہے۔

حکومت کے مطابق اب تک 12 سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ یونٹس کو منظوری دی جا چکی ہے، جن میں 1.64 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری تجویز کی گئی ہے۔ ان منصوبوں میں ایک سلیکون فیب، ایک سلیکون کاربائیڈ فیب، ایک انٹیگریٹڈ گیلیم نائٹرائیڈ مائیکرو ایل ای ڈی ڈسپلے فیب اور نو پیکیجنگ یونٹس شامل ہیں۔

وزیراعظم نے 2014 میں اپنے پہلے دورۂ آسٹریلیا کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ 28 برس بعد کسی بھارتی وزیراعظم کا پہلا دورہ تھا۔ اس وقت انہوں نے بھارتی برادری سے کہا تھا کہ اگلے دورے کے لیے انہیں مزید 28 برس انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا ’’گزشتہ 12 برسوں میں یہ میرا آسٹریلیا کا تیسرا دورہ ہے۔ ایک طرح سے یہ ہیٹ ٹرک ہے۔

امریکہ کے فلبرائٹ۔ نہرو اسکالر دھرمیندر سارسوت نے مصنوعی ذہانت میں امریکی مہارت  کا استعمال کرکے’رائس بلاسٹ‘ بیماری کی شناخت میں کامیابی حاصل کی اور ہندوستان کی زرعی تحقیقاتی برادری میں عملی تربیت اور سیکھنے کے رجحان کو فروغ دیا ہے۔

ایک اسٹارٹ اپ عالمی سرمایہ کار کے سامنے اپنا منصوبہ پیش کر سکتا ہے،ایک SHG نامیاتی اچار کے خریدار تلاش کر سکتا ہے،اور ریاستیں کثیر القومی صنعتوں کو اپنی طرف راغب کر سکتی ہیں۔

دوسری جانب، NVIDIA کی نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسمال لینگویج ماڈلز (SLMs) کئی عملی استعمالات میں بڑے لینگویج ماڈلز (LLMs) سے بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں، خاص طور پر جہاں لاگت، رفتار اور توانائی کی بچت اہم ہو۔

جولائی سے اکتوبر کے دوران مزید 40-50 لاکھ یونٹس کی ترسیل متوقع ہے، تہواروں کی بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ سے۔مارکیٹ ریسرچر Canalys کا اندازہ ہے کہ 2025 میں آئی فون کی ترسیلات 1.42 کروڑ یونٹس تک پہنچیں گی، جو پچھلے سال 1.18 کروڑ تھیں۔Counterpoint Research کے مطابق، ترسیلات میں 18-19 فیصد اضافہ ہوگا، جس سے ایپل بھارت کی اسمارٹ فون مارکیٹ میں 8 فیصد حصہ حاصل کر لے گا۔

بھارت تیزی سے ایپل کے لیے ایک بڑا پیداواری مرکز بن کر ابھرا ہے۔ ملک اب امریکہ میں فروخت ہونے والے تقریباً نصف آئی فونز مہیا کرتا ہے، اور بھارت میں تیار شدہ آئی فونز اب عالمی سطح پر پہلے دن سے دستیاب ہوتے ہیں،

انہوں نے لکھا:"بھارت کی سیمی کنڈکٹر کہانی میں بڑی کامیابی! پہلی بار، 'میڈ ان انڈیا' چپس پر مبنی ٹیلیکام سسٹم نے TEC کی اسٹینڈرڈز اور کوالٹی ٹیسٹ کلیئر کیے۔"