Bharat Express DD Free Dish

US-Iran Conflict: ’’دشمن کو اپنے دستخط کی پاسداری کرنی ہوگی‘‘ ایران کے ساتھ امن معاہدے پر امریکہ کو قائم رکھنے کے لیے دباؤ ڈالنا ضروری: صدر مسعود پزشکیان

دوسری جانب ایران کے قائم مقام وزیر دفاع سید ماجد ابن الرضا نے کہا کہ تہران ہر دشمن کی دھمکی کو حقیقی اور سنجیدہ سمجھتا ہے اور اسے محض نفسیاتی جنگ قرار نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نہ تو کسی ممکنہ حملے سے حیران ہوگا اور نہ ہی غفلت برتے گا، بلکہ ہر دھمکی کو اپنی دفاعی تیاری، مزاحمتی صلاحیت اور عسکری طاقت میں اضافے کا موقع سمجھتا ہے۔

تہران: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ کو ایران کے ساتھ طے پانے والے امن معاہدے (ایم او یو) کی پابندی کرنے پر مجبور کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس مفاہمتی یادداشت پر ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے اراکین کے درمیان مکمل اتفاق رائے موجود ہے اور یہی معاہدہ مستقبل میں ایران کی خارجہ پالیسی کا مرکزی محور ثابت ہوگا۔ صدر پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران کو اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ جس معاہدے پر امریکہ نے دستخط کیے ہیں، اس کی مکمل پاسداری کرے۔ ان کے مطابق اس مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد سے نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے اور اتحادی ممالک کی سلامتی مزید مضبوط ہوگی۔

وزیر دفاع سید ماجد کا سخت پیغام

دوسری جانب ایران کے قائم مقام وزیر دفاع سید ماجد ابن الرضا نے کہا کہ تہران ہر دشمن کی دھمکی کو حقیقی اور سنجیدہ سمجھتا ہے اور اسے محض نفسیاتی جنگ قرار نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نہ تو کسی ممکنہ حملے سے حیران ہوگا اور نہ ہی غفلت برتے گا، بلکہ ہر دھمکی کو اپنی دفاعی تیاری، مزاحمتی صلاحیت اور عسکری طاقت میں اضافے کا موقع سمجھتا ہے۔

ٹرمپ کے بیان کے بعد بڑھتی سفارتی سرگرمیاں

ایرانی حکام کے یہ بیانات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کے بعد سامنے آئے ہیں، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، تاہم ایران اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کی درخواست پر فی الحال حملہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایک ممکنہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو فوری طور پر مکمل طور پر کھولا جائے گا اور ایران کے جوہری خطرے کا خاتمہ کیا جائے گا۔

حالیہ کشیدگی سے مذاکرات متاثر

واضح رہے کہ 18 جون کو ایران اور امریکہ کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہوئے تھے، جس کے تحت دونوں ممالک نے حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 دن کے اندر مذاکرات مکمل کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم حالیہ فوجی کشیدگی کے باعث یہ مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔ گزشتہ ماہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر مبینہ حملوں کے جواب میں ایران کے متعدد فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا، جبکہ ایران نے بھی امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read