Bharat Express DD Free Dish

Diplomacy

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نے ’تزویراتی خودمختاری‘ اور ’سوراج‘ کے تصور کو عالمی سطح پر پیش کرتے ہوئے ترقی پذیر ممالک کی ترجیحات کو نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے۔ جی 20 میں افریقی یونین کی مستقل رکنیت اور گلوبل ساؤتھ کی آواز سربراہی اجلاس جیسے اہم اقدامات نے کثیر فریقی پلیٹ فارموں پر بھارت کی قائدانہ صلاحیت کو نمایاں کیا ہے۔

ایرانی صدر نے کہا ’’ایران اس وقت تک اپنی ذمہ داریوں پر قائم رہے گا جب تک امریکہ مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا رہے گا۔ جہاں کہیں وہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہوگا، وہاں ہماری بھی اسے جاری رکھنے کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی۔‘‘

دوسری جانب ایران کے قائم مقام وزیر دفاع سید ماجد ابن الرضا نے کہا کہ تہران ہر دشمن کی دھمکی کو حقیقی اور سنجیدہ سمجھتا ہے اور اسے محض نفسیاتی جنگ قرار نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نہ تو کسی ممکنہ حملے سے حیران ہوگا اور نہ ہی غفلت برتے گا، بلکہ ہر دھمکی کو اپنی دفاعی تیاری، مزاحمتی صلاحیت اور عسکری طاقت میں اضافے کا موقع سمجھتا ہے۔

اعلیٰ تعلیم، صحت، پانی کی فراہمی اور صلاحیت سازی سمیت ترجیحی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر زور۔  آئی آئی ٹی زنجبار کو ہندوستان اور افریقہ کی تعلیمی شراکت داری کی بہترین مثال قرار دیا۔

وزیراعظم نریندر مودی 27 سے 29 جون تک سیشلز کے سرکاری دورے پر رہیں گے۔ قومی دن کی گولڈن جوبلی تقریبات میں بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گے۔ وزیراعظم سیشلز کی قومی اسمبلی سے خطاب کریں گے اور بھارتی برادری سے بھی ملاقات کریں گے۔

مالی شمولیت اور ڈیجیٹل ترقی پر تفصیلی گفتگو، وزیراعظم نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل انقلاب سے مالیاتی خدمات زیادہ آسان اور کم خرچ ہوئی ہیں، بھارت اپنا تجربہ دنیا کے شراکت دار ممالک کے ساتھ بانٹنے کے لیے پُرعزم ہے۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق حکام کو خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے، کیونکہ متاثرہ علاقوں میں بڑی تعداد میں عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر منہدم ہو چکی ہیں اور ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کا اندیشہ ہے۔ امدادی اور بچاؤ کی ٹیمیں مسلسل سرچ آپریشن میں مصروف ہیں اور متاثرہ علاقوں میں ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔

وزیراعظم سے ملاقات سے قبل غدیر نظامی پور نے ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال سے بھی ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے مختلف علاقائی اور سلامتی سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق 4 جولائی سے آغاز ہونے والی کئی روزہ تقریبات 9 جولائی کو مشہد میں تدفین پر اختتام پذیر ہوں گی۔ آخری رسومات اور تدفین کی تقریب میں متعدد عالمی رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔

وزارت خارجہ کی اس رپورٹ میں کثیر جہتی اداروں میں اصلاحات لانے میں ہندوستان کی قیادت کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔