Bharat Express DD Free Dish

جے این یو طلبہ یونین کی سابق صدر آئشی گھوش کی تلاشی میں مصروف ہے دہلی پولیس، سی پی آئی کے دفتر کی تلاشی پر راجیہ سبھا میں ہنگامہ

 دہلی پولیس نے منگل (28 جولائی) کوسی پی آئی (ایم) کے دفترکی تلاشی لی۔ وہ ایس ایف آئی لیڈرآئشی گھوش کی تلاش کررہے تھے، جنہوں نے جنترمنترپر طلباء کے احتجاج میں حصہ لیا تھا۔ دہلی پولیس کی کارروائی کا معاملہ بدھ کوراجیہ سبھا میں اٹھایا گیا۔ سی پی آئی (ایم) کے رکن پارلیمنٹ جان برٹاس نے یہ مسئلہ اٹھایا، جس کے بعد ایوان میں زبردست ہنگامہ ہوا۔

نئی دہلی: راجیہ سبھا میں بدھ کے روزدہلی واقع کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) یعنی سی پی آئی (ایم) کے دفترمیں پولیس کی تلاشی کے معاملے پرزبردست ہنگامہ ہوا۔ سی پی آئی (ایم) کے رکن پارلیمنٹ جان برٹاس نے یہ معاملہ ایوان میں اٹھایا، جس کے بعد اپوزیشن کے دیگراراکین بھی ان کے حمایت میں کھڑے ہوگئے اورحکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ جان برٹاس نے سوال اٹھایا کہ دہلی پولیس کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ کانگریس صدراورراجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈرملیکارجن کھڑگے نے بھی ان کے موقف کی حمایت کی۔ اس پرمرکزی وزیرجے پی نڈا نے حکومت کی جانب سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ دہلی پولیس قانون کے مطابق اپنا کام کررہی ہے، اس معاملے پرہنگامہ کرنا مناسب نہیں ہے۔

کیا ہے پورا معاملہ؟

سی پی آئی (ایم) کے رکن پارلیمنٹ جان برٹاس کے مطابق، منگل کے روزدہلی پولیس کے اہلکارپارٹی کے نیشنل آفس (قومی دفتر) میں داخل ہوئے تھے۔ پولیس کا مقصد اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) کی لیڈر اور جواہر لال نہرویونیورسٹی (جے این یو) طلبہ یونین کی سابق صدرآئشی گھوش کوحراست میں لینا تھا۔ آئشی گھوش حالیہ دنوں جنترمنترپرہونے والے طلبا احتجاج کے اہم چہروں میں شامل رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف سال 2021 کے ایک معاملے سے متعلق وارنٹ جاری کیا گیا ہے، لیکن پولیس افسرنے انہیں فون پراس کی اطلاع دی۔ آئشی گھوش کا کہنا ہے کہ وارنٹ کی اطلاع فون پرنہیں دی جا سکتی، اسے ذاتی طورپرحوالے کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کا مقصد ان تمام طلبا کوپیغام دینا ہے جوحالیہ احتجاج میں شامل ہوئے تھے۔

عدالت کے حکم پرہوئی تلاشی

بتایا جا رہا ہے کہ سال 2021 کے ایک معاملے میں عدالت نے آئشی گھوش کے خلاف غیرضمانتی وارنٹ جاری کیا تھا۔ عدالت میں سماعت کے دوران حاضرنہ ہونے کی وجہ سے یہ وارنٹ جاری کیا گیا۔ دہلی پولیس عدالت کے حکم پرعمل کرتے ہوئے آئشی گھوش کی تلاشی کررہی ہے۔ اسی سلسلے میں پولیس سی پی آئی (ایم) کے مرکزی دفتراے کے گوپالن بھون پہنچی تھی، لیکن وہاں آئشی گھوش موجود نہیں تھیں۔

راجیہ سبھا میں کیا ہوا؟

بدھ کے روزراجیہ سبھا کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن اراکین نے دہلی میں آئشی گھوش کوگرفتارکرنے کی کوشش کی مخالفت کی۔ ساتھ ہی انہوں نے نیٹ سوالیہ پرچہ لیک معاملے کے خلاف دارالحکومت میں احتجاج کرنے والے طلبا پرپولیس کارروائی کے معاملے پروزیرداخلہ امت شاہ کے بیان کا مطالبہ بھی دہرایا۔ ایوان میں درج دستاویزات پیش کئے جانے کے فوراً بعد جان برٹاس نے آئشی گھوش کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ سادہ لباس میں دہلی پولیس کی ایک ٹیم 2021 میں جے این یواحتجاج سے متعلق معاملے میں آئشی گھوش کوگرفتارکرنے کے لیے پارٹی دفترمیں داخل ہوئی۔ برٹاس نے پولیس کارروائی کوحالیہ طلبہ احتجاج سے جوڑتے ہوئے کہا کہ آئشی گھوش کی واحد غلطی یہ تھی کہ انہوں نے جنترمنترپرہونے والے مظاہرے میں حصہ لیا تھا۔ ان کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے ملیکارجن کھڑگے نے کہا کہ ملک میں جمہوریت خطرے میں ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایک قومی سیاسی جماعت کے دفترمیں پولیس کے داخل ہونے کا حکم کس نے دیا؟

جے پی نڈا نے دیا جواب

حکومت کی جانب سے جواب دیتے ہوئے ایوان کے لیڈرجے پی نڈا نے کہا کہ یہ ایک عام قانون وانتظام سے متعلق معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کوقانون کے مطابق کارروائی کرنی ہوتی ہے اوردہلی پولیس نے بھی اسی کے مطابق کام کیا ہے۔ جے پی نڈا نے کہا کہ اگرکوئی طالب علم فعال سیاست یا احتجاجی سرگرمیوں میں شامل ہوتا ہے تواسے اس طرح کی قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ مرکزی وزیرنے اپنے طالب علمی کے دنوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی طلبہ تحریک سے وابستہ رہے ہیں اورانہیں بھی ایسی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کے دوران انہیں کلاس روم سے بھی گرفتارکیا گیا تھا اورایسا دومرتبہ ہوا تھا۔ سی پی آئی (ایم) اوردیگراپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے اس معاملے پراحتجاج جاری رکھا۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read