Bharat Express DD Free Dish

JP Nadda

۔وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے پیغام میں لکھا، ’’وزیر داخلہ امت شاہ کو سالگرہ کی دلی مبارک باد۔ ان کی انتظامی صلاحیت نے ہندوستان کے داخلی سلامتی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا ہے۔ ماؤ نواز خطرے کو ختم کرنے اور نشہ مکت سماج کے ہمارے خواب کو آگے بڑھانے میں حاصل ہونے والی کامیابیاں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

لال کرشن اڈوانی ملک کے سینئر سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا سیاسی سفر کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ وہ متعدد مرتبہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے 2002 سے 2004 تک ملک کے نائب وزیر اعظم کی ذمہ داری سنبھالی۔اس کے علاوہ وہ مرکزی وزیر داخلہ اور مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات جیسے اہم عہدوں پر بھی فائز رہے ہیں۔

کانگریس صدر نے جے پی نڈا سے مطالبہ کیا کہ وہ اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ کو ہدایت دیں کہ ہلدوانی میں مبینہ ’شدھی کرن‘ کے واقعے میں ملوث تنظیم اور افراد کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جائے۔ کھڑگے نے خط میں یاد دلایا کہ انہوں نے 13 اگست 2026 کو راجیہ سبھا میں انتہائی دکھ اور تکلیف کے ساتھ 8 اگست کو ہلدوانی میں منعقدہ اپنی عوامی ریلی کے بعد پیش آنے والے اس معاملے کو اٹھایا تھا۔

وزیر داخلہ امت شاہ نے ملک کی معیشت کو نئی سمت دینے والے اہم اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جی ایس ٹی اور نوٹ بندی جیسے بڑے فیصلوں کے دوران ارون جیٹلی نے جس مہارت کے ساتھ پالیسیوں کو نافذ کرنے میں کردار ادا کیا، وہ ان کی غیر معمولی انتظامی صلاحیت کا ثبوت ہے۔

میٹنگ میں ڈینگی، ملیریا اور چکن گنیا کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ دہلی میں اب تک ڈینگی کے 246، ملیریا کے 80 اور چکن گنیا کے 19 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ راحت کی بات یہ ہے کہ ان تینوں بیماریوں سے اب تک کسی موت کی اطلاع نہیں ملی ہے۔صحت محکمہ کی جانب سے علاج، مریضوں کی درجہ بندی، وینٹی لیٹر مینجمنٹ، ماسک کے استعمال اور ہوم کیئر سے متعلق رہنما ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔

کھڑگے کے اس بیان پر حکمراں جماعت کے ارکان نے شدید احتجاج کیا۔ ایوان کے قائد اور مرکزی وزیر جے پی نڈا نے کہا کہ اس قسم کے بیانات سے معاشرے میں بے چینی اور انتشار پیدا ہوگا۔ انہوں نے کھڑگے سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے دعوے کے حق میں منوسمرتی کی اصل مستند نقل پیش کریں۔

 دہلی پولیس نے منگل (28 جولائی) کوسی پی آئی (ایم) کے دفترکی تلاشی لی۔ وہ ایس ایف آئی لیڈرآئشی گھوش کی تلاش کررہے تھے، جنہوں نے جنترمنترپر طلباء کے احتجاج میں حصہ لیا تھا۔ دہلی پولیس کی کارروائی کا معاملہ بدھ کوراجیہ سبھا میں اٹھایا گیا۔ سی پی آئی (ایم) کے رکن پارلیمنٹ جان برٹاس نے یہ مسئلہ اٹھایا، جس کے بعد ایوان میں زبردست ہنگامہ ہوا۔

سینئروکیل اورراجیہ سبھا کے رکن کپل سبل نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ پرامن مظاہرین کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہرممکن قانونی مدد فراہم کی جائے گی۔ کپل سبل نے کہا کہ ملک میں جہاں کہیں بھی پرامن احتجاج کے دوران طلبا کونشانہ بنایا جائے گا اوران کے خلاف مقدمات درج کئے جائیں گے، وہاں انھیں تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

مرکزی وزیر جے پی نڈا نے کہا کہ اپوزیشن بحث کے لیے وقت طے کرے، حکومت اس معاملے پر بحث کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہالزام تراشی نہیں، بلکہ حل پر بحث ہونی چاہیے۔ بحث کے بعد ہمیں ایک ٹھوس پالیسی لے کر آنی چاہیے۔ بچے ملک کا مستقبل ہیں۔ ملک کے مستقبل کی فکر کرنا حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے۔

جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کا احتجاج بدھ کے روز بھی جاری رہا۔ اس دوران سی جے پی کے مرکزی ترجمان سوربھ داس نے کہا کہ ہمارا وقت قیمتی ہے اور ہم مرکزی وزیر جے پی نڈا سے اسی وقت ملاقات کریں گے، جب وہ ہماری مطالبات کو تسلیم کرنے اور انہیں پورا کرنے پر آمادہ ہوں۔