نئی دہلی: لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر (قائد حزب اختلاف) راہل گاندھی اور کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا کو منگل کے روز دہلی پولیس نے وزیراعظم نریندر مودی کی سرکاری رہائش گاہ لوک کلیان مارگ کے قریب احتجاج کے دوران حراست میں لے لیا۔ کانگریس رہنما نیٹ-یو جی 2026 پیپرلیک معاملے میں جواب دہی اور مرکزی وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ دہلی پولیس کی جانب سے حراست میں لیے جانے کے دوران کانگریس رکنِ پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا ’’یہ بزدل ہیں۔ یہ خوف زدہ ہیں۔ ہم ان سے خوف زدہ نہیں ہیں۔ یہ ہم سے خوف زدہ ہیں۔‘‘ پولیس نے راہل گاندھی کو احتجاجی مقام سے زبردستی ہٹانے کی کوشش کی اور انہیں اٹھا کر بس تک لے جاتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرتے ہوئے کانگریس کے کئی رہنماؤں اور کارکنوں کو بھی حراست میں لے لیا۔ مظاہرین نے ایک روز قبل پرچے کے مبینہ پیپرلیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف پولیس کی مبینہ زیادتی کے خلاف لوک کلیان مارگ تک مارچ کیا تھا۔
तानाशाह सरकार डर कर काँप रही है।
पहले शिक्षा व्यवस्था को बरबाद किया,
करोड़ों बच्चों का भविष्य बिगाड़ा,
150 से ज़्यादा पेपर लीक करवाए,
25 बच्चों की जान चली गई ,
जब छात्र न्याय माँगने सड़कों पर उतरे,
तो उनपर लाठीचार्ज किया, डंडे बरसाए !
संसद के गेट बंद करवाकर, सांसदों को…— Mallikarjun Kharge (@kharge) July 21, 2026
راہل گاندھی کی قیادت میں ایک نئے انقلاب کا آغاز
حراست میں لیے جانے کے بعد پولیس وین کے اندر سے اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کانگریس رکنِ پارلیمنٹ رندیپ سنگھ سرجے والا نے کہا کہ یہ احتجاج حکومت کے خلاف ایک بڑی تحریک کا آغاز ہے۔ انہوں نے کہا: ’’یہ اختتام نہیں ہے، یہ راہل گاندھی کی قیادت میں ایک نئے انقلاب کا آغاز ہے۔ وہ ہمیں قید کر سکتے ہیں، ہم پر لاٹھی چارج کر سکتے ہیں یا ہمارے ساتھ بدسلوکی کر سکتے ہیں، لیکن مودی جی کو بھارت کے ان لاکھوں بیٹوں اور بیٹیوں کو جواب دینا ہوگا، جن کا مستقبل پیپرلیک کی وجہ سے تباہ ہوا اور جن کے خاندانوں کی امیدیں چکنا چور ہوگئیں۔ یہ انقلاب اب ایک زبردست آتش فشاں بنے گا۔ راہل گاندھی کی قیادت میں اسے روکا نہیں جا سکے گا۔‘‘ کرناٹک کے وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا: ’’یہ افسوس ناک ہے کہ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کو حراست میں لیا گیا۔ ہم سب ملک کے طلبہ کے لیے انصاف کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ ہم انصاف چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث ہو۔ یہاں 100 سے زیادہ ارکان پارلیمنٹ موجود ہیں۔ کسی کو گرفتاری کا خوف نہیں ہے۔ یہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک انصاف نہیں مل جاتا۔‘‘
मोदी को राहुल गांधी से डर लगता है pic.twitter.com/0BsWO3sYNp
— Congress (@INCIndia) July 21, 2026
حکومت کا راہل گاندھی پر وعدے سے پیچھے ہٹنے کا الزام
یہ گرفتاریاں وزیرِ اعظم کے دفتر میں وزیرِ مملکت جتیندر سنگھ کی جانب سے یہ الزام عائد کیے جانے کے کچھ ہی دیر بعد ہوئیں کہ راہل گاندھی نے احتجاجی مقام کے قریب ہونے والی بات چیت کے دوران اپنے وعدے سے رجوع کیا۔ جتیندر سنگھ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ حکومت نے انہیں اور مرکزی داخلہ سکریٹری گووند موہن کو اکبر روڈ کے قریب دھرنا شروع کرنے کے بعد کانگریس قیادت سے بات چیت کے لیے مقرر کیا تھا۔ جتیندر سنگھ کے مطابق راہل گاندھی نے ابتدا میں اس شرط پر احتجاج ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی کہ حکومت پارلیمنٹ میں نیٹ معاملے اور جاری طلبہ تحریک پر بحث کی اجازت دے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ حکومت کی جانب سے اس مطالبے کو تسلیم کیے جانے کے بعد راہل گاندھی نے ایک اور شرط شامل کر دی اور مرکزی وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے پر اصرار کیا۔ جتیندر سنگھ نے مزید الزام لگایا کہ راہل گاندھی کو یہ بتائے جانے کے باوجود کہ احتجاجی مقام مظاہروں کے لیے مقرر نہیں ہے، انہوں نے جگہ خالی کرنے سے انکار کیا اور جمہوری اصولوں کے برخلاف رویہ اختیار کیا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حکومت پارلیمنٹ میں نیٹ سے متعلق تمام مسائل پر بحث کے لیے تیار تھی، لیکن کانگریس نے پارلیمانی قواعد کے تحت ایسی بحث کے لیے کوئی باضابطہ نوٹس پیش نہیں کیا۔
The Man Who Stands For The Nation 🇮🇳 pic.twitter.com/Fb1m7kKMtZ
— Congress (@INCIndia) July 21, 2026
کانگریس کا احتجاج نیٹ-یو جی 2026 پیپرلیک معاملے اور غیر مسلح طلبہ مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی پر ایک روز قبل پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے بعد کیا گیا۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اس معاملے پر بحث کا مطالبہ کیے جانے کے باعث بار بار کارروائی میں خلل پڑا، جبکہ کانگریس کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کو امتحانی تنازع اور طلبہ کے خلاف پولیس کی مبینہ زیادتی کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


