نئی دہلی: مرکزی حکومت کی جانب سے حال ہی میں منظور کی گئی ’سیمی کون 2.0‘ اور موبائل فون مینوفیکچرنگ اسکیم (ایم پی ایم ایس) کو صنعتی حلقوں نے ایک اہم اور دور رس فیصلہ قرار دیا ہے۔ صنعتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان دونوں اسکیموں سے بھارت صرف موبائل اسمبلی مرکز تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مکمل سیمی کنڈکٹر ویلیو چین تیار کرنے میں کامیاب ہوگا، جس کے نتیجے میں 3.6 لاکھ سے زیادہ نئے روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ صنعتی اداروں کے مطابق سیمی کون 2.0 کے تحت 40 سے 50 ارب امریکی ڈالر تک نئی سرمایہ کاری متوقع ہے، جس سے 2 سے 3 لاکھ اعلیٰ مہارت رکھنے والے افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ دوسری جانب موبائل فون مینوفیکچرنگ اسکیم (ایم پی ایم ایس) کے ذریعے ملک میں موبائل فون کی تیاری کو مزید فروغ ملے گا، جس سے 60 ہزار اضافی براہِ راست ملازمتیں پیدا ہونے کا امکان ہے۔ اندازہ ہے کہ اس اسکیم کے نتیجے میں موبائل مینوفیکچرنگ کی مجموعی مالیت بڑھ کر 39 لاکھ کروڑ روپے اور برآمدات تقریباً 15 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ جائیں گی۔
سیمی کنڈکٹر ویلیو چین کو مضبوط بنانے پر زور
مرکزی حکومت نے سیمی کون 2.0 کے لیے 1.27 لاکھ کروڑ روپے جبکہ ایم پی ایم ایس کے لیے 62,500 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ صنعتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے مقامی ویلیو ایڈیشن میں نمایاں اضافہ ہوگا اور بھارت عالمی الیکٹرانکس سپلائی چین میں مزید مضبوط مقام حاصل کرے گا۔ انڈیا الیکٹرانکس اینڈ سیمی کنڈکٹر ایسوسی ایشن (آئی ای ایس اے) کے مطابق سیمی کون 1.0 کے تحت پہلے ہی 20 ارب ڈالر سے زیادہ کے سیمی کنڈکٹر منصوبوں کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ ایسوسی ایشن نے کہا کہ سیمی کون 2.0 میں سیمی کنڈکٹر فیب، جدید پیکیجنگ، چِپ ڈیزائن، تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی)، مہارت کی ترقی، مشینری اور خام مال پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، جس سے بھارت عالمی سطح پر ایک قابلِ اعتماد سیمی کنڈکٹر شراکت دار بن سکے گا۔
پالیسی سے عمل درآمد کی جانب فیصلہ کن قدم
آئی ای ایس اے اور سیمی انڈیا کے صدر اشوک چندک نے کہا کہ سیمی کون 2.0 بھارت کے لیے پالیسی سازی سے بڑے پیمانے پر عملی نفاذ کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ ان کے مطابق پہلے مرحلے نے عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ کو مضبوط کیا، جبکہ دوسرا مرحلہ طویل مدتی صلاحیتوں کی تعمیر پر مرکوز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ آلات پر خرچ 2028 تک تقریباً 230 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے اور بھارت اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے مضبوط پوزیشن میں ہے۔
عالمی اسکل کیپیٹل بن سکتا ہے بھارت
انڈیا سیلولر اینڈ الیکٹرانکس ایسوسی ایشن (آئی سی ای اے) کے چیئرمین پنکج موہندرُو نے کہا کہ حکومت کی مسلسل پالیسی حمایت بھارت کو سیمی کنڈکٹر صنعت میں عالمی اسکل کیپیٹل بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ ان کے مطابق ڈیزائن، تحقیق، سرمایہ جاتی آلات اور مہارت کی ترقی پر زور دینے سے آئی ایس ایم 2.0 ملک میں مضبوط سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) قائم کرے گا۔ آپٹیمس الیکٹرانکس لمیٹڈ (او ای ایل) کے چیئرمین اشوک گپتا نے ایم پی ایم ایس کو ایک تاریخی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اسکیم پروڈکشن لنکڈ انسینٹو (پی ایل آئی) اسکیم کی کامیابی کو مزید آگے بڑھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی سرمایہ کاروں کا طویل مدتی اعتماد بڑھائے گی، مقامی ٹیکنالوجی کی ترقی کو فروغ دے گی اور بھارت کو جدید موبائل فون مینوفیکچرنگ کے لیے عالمی سطح پر پسندیدہ مرکز بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

