Bharat Express DD Free Dish

Semiconductor Industry

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑی ٹیک کمپنیاں سیمسنگ الیکٹرانکس اور ایس کے ہائنکس جیسی میموری چپ بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ طویل مدتی سپلائی معاہدے کر رہی ہیں۔ اس سے پہلے کے مقابلے میں سیمی کنڈکٹر صنعت کو زیادہ استحکام فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

آئی ای ایس اے اور سیمی انڈیا کے صدر اشوک چندک نے کہا کہ سیمی کون 2.0 بھارت کے لیے پالیسی سازی سے بڑے پیمانے پر عملی نفاذ کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ آلات پر خرچ 2028 تک تقریباً 230 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے اور بھارت اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے مضبوط پوزیشن میں ہے۔

0.7 نینو میٹر پروسیس نوڈ اور نئی ’’نینو اسٹیک‘‘ تھری ڈی ٹرانزسٹر آرکیٹیکچر پر مبنی ٹیکنالوجی۔ اس نینو چپ کو اے آئی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور مستقبل کے الیکٹرانک آلات کے لیے اہم سنگ میل مانا جارہا ہے۔