Global Semiconductor Hub: سیمی کنڈکٹر کا عالمی مرکز بننے کی راہ پر بھارت، ’سیمی کون 2.0‘ اور موبائل فون مینوفیکچرنگ اسکیم سے 3.6 لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع
آئی ای ایس اے اور سیمی انڈیا کے صدر اشوک چندک نے کہا کہ سیمی کون 2.0 بھارت کے لیے پالیسی سازی سے بڑے پیمانے پر عملی نفاذ کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ آلات پر خرچ 2028 تک تقریباً 230 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے اور بھارت اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے مضبوط پوزیشن میں ہے۔
Semicon 2.0 Scheme: وزیراعظم مودی کی قیادت میں کابینہ نے ’سیمی کون 2.0‘ اسکیم کو کیا منظور، سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ اور چپ ڈیزائن کو ملے گا بڑا فروغ
حکومت کے مطابق اب تک 12 سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ یونٹس کو منظوری دی جا چکی ہے، جن میں 1.64 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری تجویز کی گئی ہے۔ ان منصوبوں میں ایک سلیکون فیب، ایک سلیکون کاربائیڈ فیب، ایک انٹیگریٹڈ گیلیم نائٹرائیڈ مائیکرو ایل ای ڈی ڈسپلے فیب اور نو پیکیجنگ یونٹس شامل ہیں۔




