Bharat Express DD Free Dish

Employment

پی ایچ ڈی سی سی آئی کے سیمینار میں لیبر کوڈز کے عملی نفاذ، اجرت، صنعتی تعلقات، سماجی تحفظ اور کارکنوں کی حفاظت پر تفصیلی گفتگو؛ حکومت اور صنعت کے درمیان مسلسل تال میل پر زور

بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری نے وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد حکومت کی معاشی اور کھیلوں سے متعلق کامیابیاں گنواتے ہوئے کہا کہ ہندوستان دولت مشترکہ کھیلوں اور اولمپکس کی میزبانی کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ 

آئی ای ایس اے اور سیمی انڈیا کے صدر اشوک چندک نے کہا کہ سیمی کون 2.0 بھارت کے لیے پالیسی سازی سے بڑے پیمانے پر عملی نفاذ کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ آلات پر خرچ 2028 تک تقریباً 230 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے اور بھارت اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے مضبوط پوزیشن میں ہے۔

ڈیٹا سینٹر مارکیٹ 22 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ ٹیکنالوجی سے ماہر افرادی قوت کی مانگ میں بھی تیزی سے اضافہ ہونے کی امید کی جارہی ہے۔

نوئیڈا کی ملٹی نیشنل کمپنی میں 9 تربیت یافتہ نوجوانوں کا انتخاب کیا گیا  ہے۔ نوجوانوں کو اڈانی فاؤنڈیشن کی مفت تربیت سے روزگار کے نئے مواقع فراہم ہو رہے ہیں۔

وزیراعظم مودی ہفتہ کے روز 19ویں روزگار میلے میں مختلف سرکاری محکموں اور اداروں میں نئے منتخب ہونے والے نوجوانوں کو 51 ہزار سے زائد تقرری نامے تقسیم کریں گے۔

مرکزی بجٹ 2026-27 سے تعلیم اور روزگار کے شعبے میں انقلابی تبدیلیوں کی توقع ہے۔ ڈیجیٹل عدم مساوات کو دور کرنے، میگا اسکل حب بنانے اور اعلیٰ تعلیم میں نشستوں کی تعداد بڑھانے جیسے امور پر ماہرین کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔

فوڈ پروسیسنگ انڈسٹری کو منظم، مضبوط اور خود مختار بنانے کے لیے مرکزی حکومت کی وزیر اعظم فورملائزیشن آف مائیکرو فوڈ پروسیسنگ انٹرپرائزز اسکیم (پی ایم ایف ایم ای) زمین پر عملی طور پر مثبت اثر ڈالتی نظر آ رہی ہے۔ اس اسکیم کا واضح مظاہرہ بہار کے شیخ پورہ ضلع میں دیکھنے کو مل رہا ہے، جہاں لوگوں کو روزگار مل رہا ہے۔

نیشنل کونسل آف اپلائیڈ اکنامک ریسرچ (این سی اے ای آر) کی ایک نئی اور جامع رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے دو بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں، مہارت یافتہ افرادی قوت تیار کرنا اور چھوٹے صنعتوں کی صلاحیت کو مضبوط بنانا۔

بھارت کی پی ایل آئی اسکیم نے ملک میں اعلیٰ کارکردگی والے سولر پی وی ماڈیولز کی گھریلو پیداوار کو فروغ دینے کے ساتھ روزگار کے مواقع میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔ لوک سبھا میں پیش کیے گئے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2025 تک ملک بھر میں اس اسکیم کے تحت 43 ہزار سے زائد روزگار پیدا ہوئے، جن میں 11,220 براہِ راست ملازمتیں شامل ہیں۔