نئی دہلی: ملک بھر میں شدید گرمی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور کئی ریاستوں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سیلسیس تک پہنچ چکا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق 25 مئی سے 2 جون تک سورج کی تپش مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ ایسے حالات میں مرکزی حکومت اور صحت سے متعلق ادارے مسلسل عوام کو احتیاط برتنے اور غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے بچنے کی ہدایت دے رہے ہیں۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ چلچلاتی دھوپ اور شدید گرمی کے دوران سب سے زیادہ خطرہ نومولود بچوں اور کم عمر بچوں کو ہوتا ہے، کیونکہ ان کا جسم تیزی سے متاثر ہوتا ہے۔
نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) نے اپنی ایڈوائزری میں کہا ہے کہ نومولود اور چھوٹے بچے ہیٹ اسٹروک کے لیے سب سے زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ گرمی کے موسم میں بچوں کا جسم جلد گرم ہو جاتا ہے جبکہ ان میں پسینہ بھی کم آتا ہے، جس کی وجہ سے جسمانی درجہ حرارت تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔ اگر بروقت توجہ نہ دی جائے تو یہ صورتحال سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق والدین اگر مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کریں تو شدید گرمی کے باوجود بچوں کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو زیادہ دیر تک دھوپ میں رکھنا یا بند اور گرم کمروں میں چھوڑ دینا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر دوپہر کے وقت بچوں کو باہر لے جانے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ اس دوران سورج کی تپش سب سے زیادہ ہوتی ہے۔
این ایچ ایم نے بچوں کو ہیٹ اسٹروک سے محفوظ رکھنے کے لیے کئی اہم مشورے دیے ہیں۔ ادارے کے مطابق بچوں کو ہمیشہ ٹھنڈی اور ہوادار جگہ پر رکھا جائے۔ انہیں مناسب مقدار میں پانی اور دیگر سیال مشروبات پلائے جائیں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔ شیر خوار بچوں کو وقفے وقفے سے ماں کا دودھ پلانا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے، کیونکہ یہ جسم کو قدرتی طور پر ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ ماہرین نے یہ بھی کہا کہ بچوں کو ہلکے، ڈھیلے اور سوتی کپڑے پہنائے جائیں تاکہ جسم کو ہوا ملتی رہے۔ زیادہ کپڑے پہنانے سے جسم کا درجہ حرارت مزید بڑھ سکتا ہے۔ اگر ممکن ہو تو بچوں کو ٹھنڈے پانی سے نہلایا جائے یا گیلے کپڑے سے ان کا جسم صاف کیا جائے تاکہ گرمی کا اثر کم ہو سکے۔
ڈاکٹروں کے مطابق اگر بچہ مسلسل رونے لگے، چڑچڑا ہو جائے، زیادہ سونے لگے، الٹی کرے، تیز بخار ہو یا سانس لینے میں دشواری محسوس کرے تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بچوں میں ہیٹ اسٹروک کی علامات بہت جلد ظاہر ہو سکتی ہیں اور بعض اوقات انہیں پہچاننا بھی مشکل ہوتا ہے، اس لیے والدین کو خاص طور پر محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ شدید گرمی کے اس موسم میں دوپہر 12 بجے سے شام 4 بجے کے درمیان بچوں کو باہر لے جانے سے مکمل طور پر گریز کیا جائے تاکہ انہیں ہیٹ اسٹروک اور دیگر موسمی بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔
بھارت ایکپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

