Bharat Express DD Free Dish

Heatstroke

ملک بھر میں شدید گرمی اور لُو کی لہر نے عام زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے، جبکہ جنوبی ریاست تلنگانہ میں حالات مزید سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ ریاست کے مختلف اضلاع میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور ہیٹ ویو کے باعث اب تک کم از کم 16 افراد کی موت کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بھی شدید گرمی کو دنیا کے بڑے ماحولیاتی صحت کے خطرات میں شامل کیا ہے۔ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر درجہ حرارت میں اضافہ اسی رفتار سے جاری رہا تو آنے والے دنوں میں شہری صحت کے لیے صورتحال مزید خطرناک ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر نیرج نشچل نے بتایا کہ شدید گرمی میں سب سے پہلے جسم پانی کی کمی کا شکار ہوتا ہے۔ اگر اس صورتحال پر بروقت توجہ نہ دی جائے تو یہ ”ہیٹ اسٹروک“ یا لو لگنے جیسی سنگین حالت میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس میں مریض بے ہوش بھی ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ہیٹ اسٹروک کے دوران جسم کا درجہ حرارت بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے اور فوری طبی امداد نہ ملنے پر جان کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) نے اپنی ایڈوائزری میں کہا ہے کہ نومولود اور چھوٹے بچے ہیٹ اسٹروک کے لیے سب سے زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ گرمی کے موسم میں بچوں کا جسم جلد گرم ہو جاتا ہے جبکہ ان میں پسینہ بھی کم آتا ہے، جس کی وجہ سے جسمانی درجہ حرارت تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔ اگر بروقت توجہ نہ دی جائے تو یہ صورتحال سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے۔