Bharat Express DD Free Dish

Child Health

چھتیس گڑھ کے سرگوجا ضلع میں خواتین نے خود پہل کرتے ہوئے تقریباً ایک ہزار بچوں کی صحت اور غذائیت کو بہتر بنانے کی ایک قابلِ ذکر مثال قائم کی ہے۔ یہاں بچوں کو غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم کرنے کی ذمہ داری کسی وینڈر یا ٹھیکیدار کے حوالے کرنے کے بجائے مقامی ماؤں نے خود سنبھالی ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ طویل وقت تک گردن جھکا کر موبائل استعمال کرنے سے گردن اور کندھوں کے پٹھوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے، جس سے "ٹیکسٹ نیک"، ٹینشن ہیڈیک اور مائگرین کی شکایات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ مسلسل اسکرین دیکھنے سے ذہنی تھکن، چڑچڑاپن،

نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) نے اپنی ایڈوائزری میں کہا ہے کہ نومولود اور چھوٹے بچے ہیٹ اسٹروک کے لیے سب سے زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ گرمی کے موسم میں بچوں کا جسم جلد گرم ہو جاتا ہے جبکہ ان میں پسینہ بھی کم آتا ہے، جس کی وجہ سے جسمانی درجہ حرارت تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔ اگر بروقت توجہ نہ دی جائے تو یہ صورتحال سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے۔

قومی صحت مشن نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ اس موسم میں بچوں کو باہر کا کھانا کھلانے سے گریز کریں کیونکہ غیر معیاری خوراک ان کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق بازار میں دستیاب جنک فوڈ، چاٹ، سموسے اور ٹھنڈے مشروبات میں استعمال ہونے والا پانی، تیل اور مصالحے اکثر غیر صاف ہوتے ہیں، جس سے فوڈ پوائزننگ اور معدے کے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں تقریباً 282 ملین کیسز اور 6 لاکھ 10 ہزار اموات رپورٹ ہوئیں، جو پچھلے سال کے مقابلے میں معمولی اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اگرچہ پیش رفت ہوئی ہے،

مہاراشٹر کے چندرپور میں 6 سالہ بچے نے کھیلتے ہوئے غلطی سے مقناطیس نگل لیا، اینستھیزیا خطرناک ہونے کے باعث ڈاکٹروں نے خاص ٹیلی اسکوپ کی مدد سے صرف 2 منٹ میں اس کی جان بچا لی، پڑھیں چندرپور میں پیش آیا حیران کن واقعہ۔

گرمی کے بڑھتے درجۂ حرارت میں جسم کو ہائیڈریٹ رکھنا صحت کے لیے بے حد ضروری ہے۔ ڈی ہائیڈریشن سے بچنے کے لیے قدرتی اور ذائقہ دار ٹھنڈے مشروبات کا استعمال بہترین متبادل ہے۔ ماہرینِ صحت ایسے ہی آسانی سے تیار ہونے والے اور صحت کے لیے فائدہ مند آم پنا کے روزانہ استعمال کا مشورہ دیتے ہیں۔

آخرکار تھک ہار کر والدین نے سِول لائن تھانے میں متعلقہ ٹیچر کے خلاف شکایت درج کرائی، جس کے بعد پولیس نے ایف آئی آر درج کر کے معاملے کی جانچ شروع کر دی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے بعد قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

المیہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ بچی کی موت کے بعد بھی اسپتال انتظامیہ نے لاش لے جانے کے لیے ایمبولینس فراہم نہیں کی۔ غریب والدین کے پاس نجی گاڑی کا انتظام کرنے کی سکت نہیں تھی، جس کے باعث انہیں اپنی معصوم بیٹی کی لاش موٹر سائیکل پر رکھ کر گاؤں واپس لے جانی پڑی۔