Bharat Express DD Free Dish

Heat wave India

ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی کے دوران چائے، کافی، الکحل، کولڈ ڈرنکس اور فزی ڈرنکس کا زیادہ استعمال نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہ جسم میں پانی کی کمی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ اس کے بجائے نمک اور چینی والا محلول یا او آر ایس پینا فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بھی شدید گرمی کو دنیا کے بڑے ماحولیاتی صحت کے خطرات میں شامل کیا ہے۔ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر درجہ حرارت میں اضافہ اسی رفتار سے جاری رہا تو آنے والے دنوں میں شہری صحت کے لیے صورتحال مزید خطرناک ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر نیرج نشچل نے بتایا کہ شدید گرمی میں سب سے پہلے جسم پانی کی کمی کا شکار ہوتا ہے۔ اگر اس صورتحال پر بروقت توجہ نہ دی جائے تو یہ ”ہیٹ اسٹروک“ یا لو لگنے جیسی سنگین حالت میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس میں مریض بے ہوش بھی ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ہیٹ اسٹروک کے دوران جسم کا درجہ حرارت بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے اور فوری طبی امداد نہ ملنے پر جان کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) نے اپنی ایڈوائزری میں کہا ہے کہ نومولود اور چھوٹے بچے ہیٹ اسٹروک کے لیے سب سے زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ گرمی کے موسم میں بچوں کا جسم جلد گرم ہو جاتا ہے جبکہ ان میں پسینہ بھی کم آتا ہے، جس کی وجہ سے جسمانی درجہ حرارت تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔ اگر بروقت توجہ نہ دی جائے تو یہ صورتحال سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے۔

محکمہ موسمیات نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ آندھی، بجلی کی چمک اور تیز ہواؤں کے دوران احتیاط برتیں، غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں اور محفوظ مقامات پر رہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم کی یہ تبدیلی وقتی راحت تو فراہم کرے گی، لیکن گرمی کا مکمل خاتمہ فی الحال ممکن نہیں، اس لیے عوام کو بدستور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

دہلی-این سی آر میں درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے اور شہری شدید گرمی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ جمعہ کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت معمول سے سات ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے چند دنوں میں درجہ حرارت 35 سے 36 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔

شمالی ہند کی زیادہ تر ریاستیں سخت ترین گرمی کی زد میں ہے جبکہ جنوبی اور شمال مشرقی ہند میں بارش، آندھی اور تیز ہوا کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔