Bharat Express DD Free Dish

Heatwave

محکمہ موسمیات کے مطابق جنوب مغربی مانسون اگرچہ کیرلم میں اپنی معمول کی تاریخ سے چند دن تاخیر سے پہنچا، تاہم اس کے بعد اس کی رفتار میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ مانسون 4 جون کو کیرلم پہنچا، جبکہ اس کی معمول کی آمد یکم جون کو متوقع تھی۔ اس سے قبل محکمہ موسمیات نے 26 مئی تک مانسون کے کیرلم پہنچنے کا اندازہ ظاہر کیا تھا، لیکن موسمی حالات کے باعث اس میں تاخیر ہوئی۔

27 مئی کو بھی موسم تقریباً اسی طرح رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس دن بھی زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 44 ڈگری اور کم سے کم 31 ڈگری سیلسیس رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ گرم اور خشک ہوائیں لوگوں کی صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں،

شدید آلودگی اور انتظامی لاپروائی کے باعث مشرقی دہلی کی مشہور سنجے جھیل ان دنوں مچھلیوں کے قبرستان میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ جھیل میں ہزاروں کی تعداد میں مردہ مچھلیاں تیرتی اور کناروں پر جمع نظر آ رہی ہیں،

ملک بھر میں شدید گرمی اور لُو کی لہر نے عام زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے، جبکہ جنوبی ریاست تلنگانہ میں حالات مزید سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ ریاست کے مختلف اضلاع میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور ہیٹ ویو کے باعث اب تک کم از کم 16 افراد کی موت کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

آئی ایم ڈی کی جانب سے جاری لوکل ویدر رپورٹ اور پیش گوئی کے مطابق 23 مئی سے 28 مئی تک مسلسل ہیٹ ویو کی صورتحال برقرار رہ سکتی ہے۔ محکمہ نے اس دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 44 سے 45 ڈگری سیلسیس تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) نے اپنی ایڈوائزری میں کہا ہے کہ نومولود اور چھوٹے بچے ہیٹ اسٹروک کے لیے سب سے زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ گرمی کے موسم میں بچوں کا جسم جلد گرم ہو جاتا ہے جبکہ ان میں پسینہ بھی کم آتا ہے، جس کی وجہ سے جسمانی درجہ حرارت تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔ اگر بروقت توجہ نہ دی جائے تو یہ صورتحال سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے۔

ماہرین نے لوگوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے کا مشورہ دیا ہے۔ خاص طور پر بزرگوں، بچوں اور بیمار افراد کو زیادہ احتیاط برتنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ شدید گرمی کی وجہ سے سڑکوں پر آمد و رفت کم ہو گئی ہے۔

ملک بھر کے موسم میں شدید اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک طرف راجستھان اور اتر پردیش میں لو کا قہر جاری ہے، تو دوسری طرف بہار اور جھارکھنڈ میں آندھی اور بارش کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ اس درمیان مانسون کی آہٹ بھی سنائی دینے لگی ہے، جو 16 مئی تک بحیرۂ انڈمان پہنچ سکتا ہے۔

نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) کے مطابق کھٹے ذائقے والا کچا آم گرمی کے موسم میں جسم کو کئی مسائل سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ عام طور پر لوگ اسے چٹنی، اچار یا آم پنا کی شکل میں استعمال کرتے ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے باقاعدہ استعمال سے جسم کو کئی اہم غذائی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

ملک بھر میں موسم کا مزاج ایک بار پھر بدلنے والا ہے۔ محکمۂ موسمیات کے مطابق، دہلی-این سی آر اور راجستھان میں 9 مئی سے شدید گرمی اور لو کی واپسی ہوگی، جہاں درجۂ حرارت 40 سے 46 ڈگری تک پہنچ سکتا ہے۔