Karnataka Allows School Students To Wear Hijab: کرناٹک حکومت نے اسکولوں اورکالجوں میں ڈریس کوڈ سے متعلق 2022 میں جاری حکم واپس لیتے ہوئے بڑا فیصلہ لیا ہے۔ حکومت نے نئی گائیڈ لائن جاری کرکے کہا ہے کہ یونیفارم لازمی رہے گی، لیکن طلبہ وطالبات کو”محدود روایات اورمذہبی علامات“ کو پہننے کی اجازت ہوگی۔ نئی پالیسی کے تحت طلباء اب اسکولوں اورکالجوں میں حجاب، پگڑی، جنیو، شیودھارا اوررودراکش پہن کرجاسکیں گے، بشرطیکہ یہ مقررہ یونیفارم کی تکمیل کریں اوراس کی بنیادی روح کومتاثرنہ کریں۔
حکومت نے کہا- داخلہ سے نہیں روکا جاسکتا
کرناٹک کی سدارمیا حکومت نے واضح کیا کہ کسی بھی طالب علم کو ان روایتی علامات کو پہننے کی وجہ سے کلاس، تعلیمی اداروں یا امتحان ہال میں داخلہ سے نہیں روکا جاسکتا۔ ساتھ ہی کسی طالب علم کو انہیں پہننے کے لئے مجبورنہیں کیا جائے گا اور نہ ہی زبردستی ہٹانے کے لئے مجبورکیا جاسکے گا۔
حکومت کے آرڈر میں کیا کہا گیا؟
آرڈرمیں کہا گیا کہ جہاں کرناٹک ایجوکیشن ایکٹ 1983 ریاست کونظم وضبط برقراررکھنے کا اختیاردیتا ہے، وہیں اداروں کو بھی سیکولراورجامع ماحول کویقینی بنانا چاہئے۔ حکومت نے کہا کہ آئینی سیکولرازم کا مطلب انفرادی عقائد کی مخالفت نہیں ہے، بلکہ ادارہ جاتی غیرجانبداری اورغیرامتیازی سلوک ہے۔ آرڈرمیں بسونّا کے “اوانمّا” (وہ ہمارا اپنا ہے) کے اصول کا حوالہ دیا گیا کہ تعلیم سے کسی بھی طالب علم کومحروم نہیں کیا جانا چاہئے۔
فوری اثرسے نافذ ہوگا حکم
یہ حکم فوری طورپرنافذ ہوجائے گا اورتمام سابقہ ادارہ جاتی احکامات اورمقامی قراردادیں جواس سے متصادم ہوں، خود بخود منسوخ ہوجائیں گی۔ تاہم، حکومت نے واضح کیا کہ قومی یا ریاستی سطح کے امتحانات کے دوران نافذ ہونے والے خصوصی لباس ضابطے برقراررہ سکتے ہیں۔ کمشنر آف اسکول ایجوکیشن اورڈائریکٹرآف پری یونیورسٹی ایجوکیشن کوریاست بھرمیں ان قوانین کے یکساں اورغیرامتیازی نفاذ کویقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
