Bharat Express DD Free Dish

Hijab

کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدارمیا نے کہا کہ ریاست کے تعلیمی اداروں میں صرف پہلے سے چلی آرہی روایات کو ہی اجازت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کوئی نیا طریقہ متعارف نہیں کرایا جا سکتا۔

کرناٹک میں نئی پالیسی کے تحت طلباء اب اسکولوں اورکالجوں میں حجاب، پگڑی، جنیو، شیودھارا اور رودراکش پہن کرجاسکیں گے، بشرطیکہ یہ مقررہ یونیفارم کی تکمیل کریں اوراس کی بنیادی روح کومتاثرنہ کریں۔

مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے کہا کہ اگر اویسی صاحب کے دل میں غزوۂ ہند ہے تو ملک میں ایسا دوبارہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اس دوران گری راج سنگھ نے کانگریس کو بھارت کی تقسیم کا ذمہ دار ٹھہرا دیا۔

پٹنہ میں واقع سرکاری طبی کالج و اسپتال کے پرنسپل محفوظ الرحمان نے بتایا کہ نُصرت پروین اپنی ملازمت جوائن کریں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پہلے ایسی خبریں سامنے آئی تھیں کہ تنازع کے بعد نُصرت نے نوکری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم یہ خبریں درست نہیں ہیں۔ پرنسپل کے مطابق نُصرت پروین جلد ہی پٹنہ صدر اسپتال میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔

معاملے کی اطلاع سامنے آنے کے بعد سماج وادی پارٹی کے ایک لیڈر اور گرام پردھان نے بھی اسکول پہنچ کر معاملے کی جانکاری لی۔ اس کی وجہ سے معاملہ اور گرما گیا۔ اس کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی ہنگامہ برپا ہو گیا۔ سی او نگینہ راکیش وششٹھ نے موقع پر پہنچ کر دونوں فریقوں سے بات کی اور دونوں فریقوں کو سمجھایا۔

مقامی میڈیا آرگنائزیشن 'رشیا ٹوڈے' کی رپورٹ کے مطابق مسلمان خواتین پاسپورٹ کی تصاویر کی وجہ سے اپنا چہرہ زیادہ ڈھانپ نہیں پاتی ہیں۔ ایسے میں نئے قانون کے تحت انہیں پاسپورٹ کے لیے سر ڈھانپ کر تصویریں استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔

طالبات نے راہل سے سیاست میں خواتین کی شمولیت سے متعلق سوالات بھی پوچھے۔ اس پر راہل نے کہا، سیاست اور کاروبار میں خواتین کی پوری نمائندگی نہیں ہے۔ اس کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو خواتین امیدواروں کو موقع دینے کے بارے میں سوچنا ہو گا۔ راہل نے کہا کہ  ہم نے مقامی سطح پر سیاست میں خواتین کی موجودگی دیکھی ہے۔

راجستھان کے وزیرتعلیم مدن دلاور نے اس معاملے میں محکمہ تعلیم کو حکم دیا ہے کہ دوسری ریاستوں میں حجاب پر پابندی کے اسٹیٹس کی رپورٹ تیار کی جائے، ساتھ ہی راجستھان میں اس کا کیا اثر پرے گا، اس کی بھی رپورٹ تیار کی جائے۔

اے آئی یو ڈی ایف کے سربراہ مولانا بدرالدین اجمل نے کہا ہے کہ حجاب پہننا صرف ایک متبادل نہیں بلکہ یہ ایک ضرورت ہے۔ انہوں نے مسلم لڑکیوں سے حجاب پہننے کی اپیل کی ہے۔

اے آئی یو ڈی ایف کے سربراہ نے مزید کہا کہ لڑکیوں کے بال شیطان کی رسی ہیں۔ لڑکیوں کا میک اپ شیطان کی رسی ہے۔ اس لیے جب بھی بازار جائیں تو سر ڈھانپ لیں اور بازار جانے سے پہلے آنکھیں نیچی کرلیں۔